حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 3
شاید تم سے اچھا ہو اور نہ عورتیں ہنسی کریں عورتوں سے،کیونکہ ہو سکتا ہے کہ جس سے ایک عورت تمسخر کرتی ہے دوسری سے اچھی ہو اور اپنوں کو کوئی طعن مت دیا کرو اور کسی کی نسبت بُرا لقب مت بولو۔ایسی کرتوتوں سے بُرے لقب دینے والا اﷲتعالیٰ کے یہاں سے فاسق و بدکار ہونے کا لقب پاتا ہے۔اور مومن کہلا کر فاسق بننا بُرا ہے۔جو لوگ بُرے کاموں سے باز نہ آئے وہی بدکار ہیں۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۷۳) مومن ہونے کے بعد فاسق نام رکھا تا بہت ہی بُری بات ہے۔یہ تمسخر کہاں سے پیدا ہوتا ہے؟ بدظنّی سے اس لئے فرماتا ہے۔اِجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ بدگمانیوں سے بچو۔حدیث میں بھی آیا ہے۔ایاکم و الظن۔فَاِنَّ الظَّنَّ اَکْذَبُ الْحَدِیْثِ۔اس بدظنی سے بڑا بڑا نقصان پہنچتا ہے۔میں نے ایک کتاب منگوائی۔وہ بہت بے نظیر تھی۔میں نے مجلس میں اس کی خوب تعریف کی۔کچھ دنوں کے بعد وہ کتاب گم ہو گئی مجھے کسی خاص پر تو خیال نہ آیا۔مگر یہ خیال ضرور آیا۔کسی نے چُرالی۔ایک دن جب میں نے اپنے مکان سے الماریا ں اٹھوائیں تو کیا دیکھتا ہوں۔الماری کے پیچھے بیچبیچ کتاب پڑی ہے۔جس سے معلوم ہوا کہ کتاب میں نے رکھی ہے اور پیچھے جا پڑی۔اس وقت مجھے دو معرفت کے نکتے کھُلے۔ایک تو مجھے ملامت ہوئی کہ میں نے دوسرے پر بدگمانی کیوں کی۔دومؔ میں نے صدمہ کیوں اٹھایا۔خدا کی کتاب اس سے بھی زیادہ عزیز اور عمدہ میرے پاس موجود تھی۔اسی طرح میرا ایک بستر تھا جس کی کوئی آٹھ تہیں ہوں گی۔ایک نہایت عمدہ ٹوپی مجھے کسی نے بھیجی جس پر طلائی کام ہوا تھا۔ایک عورت اجنبی ہمارے گھر میں تھی۔اسے اس کام کا بہت شوق تھا۔اس نے اس کے دیکھنے میں بہت دلچسپی لی۔تھوڑی دیر بعد وہ ٹوپی گم ہو گئی۔مجھے اس کے گم ہونے کا کوئی صدمہ تو نہ ہوا کیونکہ نہ میرے سر پر پوری آتی تھی نہ میرے بچوں کے سر پر۔مگر میرے عَکْس نے اس طرف توجہ کی کہ اس عورت کو پسند آگئی ہو گی۔مدّت ہوئی۔اس عورت کے چلے جانے کے بعد جب بستر کو جھاڑنے کیلئے کھولا گیا تو اس کی ایک تہہ سے نکل آئی۔دیکھو بدظن کیسا خطرناک ہے اﷲ تعالیٰ اپنے بعض بندوں کو سکھاتا ہے جیساکہ اس نے محض اپنے فضل سے میری راہنمائی کی۔اور لوگوں سے بھی ایسے معاملات ہوتے ہوں گے مگر تم نصیحت نہیں پکڑتے۔اس بدظنی کی جڑھ ہے ’’کرید‘‘خواہ مخواہ کسی کے حالات کی جستجو اور تاڑ بازی۔اس لئے فرمایا وَ لَا تَجَسَّسُوْا اور پھر اس تجسسّ سے غیبت کا مرض پیدا ہوتا ہے۔ان آیات میں تم کو یہ بھی سمجھایا گیا ہے کہ گناہ شروع میں بہت چھوٹا ہے اور آخر میں بہت بڑا ہو جاتا ہے جیسے بَڑ کا بیج دیکھنے میں کتنا چھوٹا ہے۔جب بعض آدمیوں کو آرام ملتا ہے۔فکرِ معاش سے گونہ بے فکری حاصل ہوتی ہے۔وہ نکمّے بیٹھنے لگتے ہیں۔اب اور کوئی مشغلہ تو ہے نہیں۔تمسخر کی خُو ڈال لیتے ہیں۔یہ تمسخر کبھی زبان سے ہوتا ہے۔کبھی اعضاء سے