حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 61
ترجمہ: کیا نہیں دیکھا تو نے ان لوگوں کی طرف کہ منع کئے گئے مخفی کانا پھوسی سے پھر باز نہیں آتے۔اور کمیٹیاں کئے جاتے ہیں اور فرمایا۔ یہ کانا پھُوسی اور مشورہ اﷲ سے دور ہلاک ہونے والی خبیث روہ شیطان سے ہے۔کہ غم میں ڈالے مومنوں کو اور یہ لوگ کچھ بھی مومنوں کو ضرر نہیں دے سکیں گے۔پہلے سپارے میں بھی ایسی مخفی مجالس کا ذکر ہے۔مگر دیکھ لو وہ تمامف ممبران اور گرینڈ ۱؎ ماسٹر خائب و خاسر ہو گئے۔آخر اﷲ تعالیٰ سمیع بصیر علیم و خبیر ہے۔اپنی مخلوق (کے)حرکت و سکون جانتا ہے۔(نور الدّین طبع سوم صفحہ ۲۵۱) ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا: انہوں نے بات کی اس کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔۱؎ GRAND MASTEFR ۲۔ایک دفعہ نہیں بلکہ پھر کہہ دیتے ہیں۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۸۴) انسان کے دُکھوں میں اَور خیالات ہوتے ہیں۔سُکھوں میں اَور۔اور کامیاب ہو تو اَور طریق ہوتا ہے ناکام ہو تو اور طرز۔طرح طرح کے منصوبے دل میں اٹھتے ہیں اور پھر ان کو پورا کرنے کے لئے وہ کسی کو محرمِ راز بانتے ہیں اور جس کے بہت سے ایسے محرم راز ہوتے ہیں تو پھر انجمنیں بن جاتی ہیں۔ا ﷲ تعالیٰ نے اس سے روکا تو نہیں مگر یہ حکم ضرور دیا۔۔ ۔ایمان والو! ہم جانتے ہیں کہ تم منصوبہ کرتے ہو انجمنیں بناتے ہو مگر یاد رہے کہ جب کوئی انجمن بناؤ ت گناہ۔سرکشی اور رسول کی فرماں برداری کے بارے میں نہ ہو۔بلکہ نیکی اور تقوٰی کا مشورہ ہو۔بنی اسرائیل جب مصر کی طرف گئے تو پہلے پہل ان کو یوسف علیہ السلام کی وجہ سے آرام ملا۔پھر جب شرارت پر کمر باندھی تو فراعنہ کی نظر میں بہت ذلیل ہوئے۔مگر خدا نے رحم کیا اور موسٰی علیہ السلام کے ذریعہ سے ان کو نجات ملی۔یہاں تک کہ وہ فاتح ہو گئے۔اور وہ اپنے تئیںنَحْنُ اَبْنَآئُ اﷲِ وَ اَحِبَّآئُ ہٗ سمجھنے لگے۔لیکن جب پھر ان کی حالت تبدیل ہو گئی۔ان میں بہت ہی حرامکاری شرک اور بدذاتیاں پھیل گئیں تو ایک زبردست قوم کو اﷲ تعالیٰ نے ان پر مسلّط کر دیا۔(بدر ۴؍فروری ۱۹۰۹ء صفحہ۳)