حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 593
موجود ہے۔ان تمام مفاسد و عقائد فاسدہ کا ابطال ہے۔جو دنیا میں پیدا ہوئے یا ہو سکتے ہیں۔اور ان اعمالب صالحہ و عقائد صحیحہ کا تذکرہ ہے جو انسان کی روحانی و جسمانی ترقیات کے لئے ضروری ہیں۔اسی طرح انجیل کا اخیر دیکھو۔اس میں لکھا ہے کہ یسوع جو خداوند کہلاتا تھا، اپنے دشمنوں کے قبضے میں آگیا،اور اس نے ایلی ایلی لما سبقتانی ( یعنی اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا) کہتے ہوئے اپنی جان دی۔برخلاف اس کے قرآن مجید ختم ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔قرآن مجید پڑھنے والا، قرآن شریف کا متّبع برے زور سے علی الاعلان دعویٰ کرتا ہے، مَیں خدا کی پناہ میں ہوںگا جو تمام انسانوں کو پیدا کرنے والا اور پھر انہیں کمال تک پہنچانے والا ہے۔وہ سب سے حقیقی بادشاہ حقیقی معبود ہے۔اﷲ اکبر۔ایک معمولی تھانیدار یا صاحبِ ضلع بلکہ نمبردار اور پٹواری کی پناہ میں آ کر کئی لوگ مطمئن ہو جاتے ہیں۔پس کیا مرتبہ ہے اس شخص کا جو تمام جہان کے ربّ اور بادشاہ اور سچّے معبود کی پناہ میں آ جائے۔صرف اس کتاب کا اوّ ل و آخر ہی اسلام اور عیسائیت میں فیصلہ کن ہے۔اگر کوئی خدا ترس دل لے کر غور کرے۔(تشحیذالاذہان جلد۶ نمبر۹ صفحہ ۳۵۳۔۳۵۴) وَ اٰخِرُدَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَلمِلَیْنَ