حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 592
میں بحصّہ رسدی پہنچانا یہ ربّ کا کام ہے۔اسی طرح بادشاہ کی ضرورت ہے، گاؤں میں نمبردار نہ ہو، تو اس گاؤں کا انتظام ٹھیک نہیں۔اسی طرح تحصیلدار نہ ہو تو اُس تحصیل کا،ڈپٹی کمشنر نہ ہو تو ضلع کا کمشنر نہ ہو تو کمشنری کا، اسی طرح بادشاہ نہ ہو تو اس ملک کا انتظام درست نہیں رہ سکتا اور اس کی مملکت کے انتظام کے لئے بھی ایک مَلِک کی حاجت ہے۔پھر انسان اپنی ہاجتوں کے لئے کسی حاجت روا کا مہتاج ہے۔ان تینوں صفتوں کا حقیقی مستحق اﷲ ہے۔اس کی پناہ میں مومن کو آنا چاہیئے۔تا چھپے چھپے پیچھے لے جانیوالے مانع ترقی، وسوسوں سے امن میں رہے۔اسلام کی حالت اس وقت بہت ردّی ہے ہر مسلمان میں ایک قسم کی خود پسندی اور خودرائی ہے۔وہ اپنے اوقات کو، اپنے مال کو خدا کی ہدایت کے مطابق خرچ نہیں کرتا۔اﷲ تعالیٰ نے انسان کو آزاد بنایا، پر کچھ پابندیاں بھی فرمائیں، بالخصوص مال کے معاملہ میں ، پس مالوں کے خرچ میں بہت احتیاط کرو۔اس زمانہ میں بعض لوگ سود لینا دینا جائز سمجھتے ہیں، یہ بالکل غلط ہے،حدیث میں آیا ہے، سود کا لینے والا، دینے والا بلکہ لکھنے والا اور گواہ سب خدا کی لعنت کے نیچے ہیں۔میں انی طرف سے حقِ تبلیع ادا کر کے تم سے سبکدوش ہوتا ہوں مَیں تمہاری ایک ذرّہ بھی پرواہ نہیں رکھتا۔مَیں تو چاہتا ہوں کہ تم خدا کے ہو جاؤ، تم اپنی ہالتوں کو سنوارو خدا تمہیں عمل کی توفیق دے۔آمین۔(بدر مورخہ ۲۲؍جولائی ۱۹۰۹ء صفحہ ۲) متی کی انجیل کا پہلا صفحہ اٹھا کر دیکھو، وہاں کیا لکھا ہے، نسب نامہ یسوع مسیح داؤد اور ابراہیم کے بیٹے کا۔ابراہام سے اسحاق پیدا ہوا اور اسہق سے یعقوب پیدا ہؤا… متّان سے یعقوب پیدا ہوا اور یعقوب سے یوسف پیدا ہوا۔جو مریم کا شوہر تھا جس کے پیٹ سے یسوع جو مسیح کہلاتا ہے پیدا ہوا۔حالانکہ یہ وہ کام ہے جو ہمارے ملک میں تو میراسی کرتے ہیں۔اس کے مقابل میں قرآن مجید سروع ہوتا ہے سے۔یہ وہ آیت ہے جس سے تمام مذاہب کا ردّ ہوتا ہے نہ یسوعیوں کا خداوند اقنوم ثالث رہ سکتا ہیگ نہ رحم بلامبادلہ کے بہانے کسی بے گناہ کو پھانسی چڑھانا پرتا ہے، اور نہ آریوں کا مادہ روہ ازلی و ابدی بن سکتا ہے اور نہ تناسخ والوں کی کوئی دلیل باقی رہتی ہے، اور نہ آریوں کا مادہ روہ ازلی و ابدی بن سکتا ہے اور نہ تناسخ والوں کی کوئی دلیل باقی رہتی ہے، جس کا ردّ اس سے نہ ہو سکے، نہ سو فسطائیوں کے لئے تاب ہے، اور نہ برہمؤوں کو مسئلہ الہام میں تردّد رہ سکتا ہے، اور نہ شیعہ صحابہ کرام پر اعتراص کر سکتے ہیں، نہ دہریہ کسی حجّتِ نیرّہ کی بناء پر خدا کی ہستی کے کنکر رہ سکتے ہیں، یہ تو ایک آیت کے متعلق ہے۔اگر سات آیتیں پڑھی جاویں، تو پھر تمام مذاہب کی صداقتوں کا عطر مجموعہ اس میں ملتا ہے۔اور دنیا کے آخر تک پیش آنیوالے دینی اہم واقعات کی خبر اس میں موجود ہے۔چنانچہ نصارٰی کے اس غلبہ اور مسیح کی آمد ثانی کی پیشگوئی بھی