حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 591
چاہے اور اس کُتّے کو دھتکار دے تو کیا مجال کہ وہ کتا کسی کو کاٹ کھائے اسی طرح انسانی یا شیطانی وسوسوں سے بچنا بھی اس وجود کی پناہ سے ہو گا جو کل مخلوقات کا ربق اور مالک اور محبوب ہے۔وسواس نام ہے ہر ایک ایسی چیز کا جس کا بُرا ہونا ہم سے مخفی رہ گیا اور جس کی بدی سے ہم بے خبر رہے اور اس کی شرارت ہمارے جسم پر یا اخلاق پر یا روہانی معملات پر اثر ڈالتی ہو یا ڈالا ہو اور ہمیں اس کی اطلاع نہ ملی ہو۔چاہے وہ مخفی چیز ہو چاہے اوہ انسان ، ہاں شیطان بصورت انسان سے۔میں اپنے لئے آپ یہ دعا مانگتا ہوں اور آپ کو یہ دعا مانگنے کی سفارش کرتا ہوں کہ اس جلسہ میں جو کچھ ہم نے سنا۔اس میں سے جو کچھ ہمارے جسم، اخلاق اور رُوح کے لئے مفید نہ ہو بلکہ کسی نہ کسی مخفی طریق سے وہ نقصان رساں ہو اس سے آپ پناہ مانگیں جو ربق النّاس، ملک النّاس اور الہِٰ النّاس ہے کیونکہ انہیں تین صفات کے ماتحت انسانی جسم، اخلاق اور روح کی تکمیل ہوتی ہے۔(رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب صفحہ ۲۵۸ تا ۲۶۱) اس سورۃ کو اخیر میں لانے میں یہ حکمت ہے کہ قرآن کو ختم کرے کے اور شروع کرتے ہوئے اَعُوْذُ پڑھنا چاہیئے۔چونکہ یہ طریق مسنون ہے کہ قرآن کریم ختم کرتے ہی شروع کر دینا چاہیئے، اس لئے نہایت عمدہ موقعہ پر یہ سورث ہے۔بخاری ؒصاحب نے اپنی کتاب کو ابنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ سے شروع کیا ہے ، تاکہ سامعین لوگ اور معلّم اور متعلّم اپنی اپنی نیّتوں پر غور کر لیں۔یاد رکھو جہاں خزانہ ہوتا ہے وہیں چور کا ڈر ہے۔قرآن مجید ایک بے بہا خزانہ ہے۔اس لئے خطرۂ شیطانی عظیم الشان ہے۔قرآن کے ابتداء میں یُضِلُّ بِہٖ کثِیْرًا پڑھ کر دل کانپ جاتا ہے اپنی رسومات کے ادا کرنے کے لئے تو مکان بلکہ زمین تک بیچنے سے بھی نہیں ڈرتے، مگر خدا کے لئے ایک پیسہ نکالنا بھی دُو بھر ہے۔ایک قرآن پر عمل کرنے سے پہلو تہی ہے اور خود و ضعداری و تکلّف و رسوم کے ماتحت جو کچھ کرتے ہیں اس کی کتاب بنائی جاوے تو قرآن سے دس گنا حجم میں ضخیم ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ عفور رحیم ہے،اس کو ہماری عبادت کی صرورت کیا ہے۔ہالانکہ وہ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں بھی بدپرہیزیوں سے اور حکّام کی خلاف ورزی سے دُکھ صرور پہنچتا ہے۔پس گناہ سے اور احکم الحاکمین کی خلاف ورزی سے کیوں سزا نہ ملے گی۔ان تمام اقسام کے وسوسوں اور غلط فہمیوں سے ( جو اضلال کا موجب ہیں)۔بچنے کے لئے یہ سورۃ سکھائی گئی ہے۔اَعُوْذ اُن چھوٹے پودوں کو کہتے ہیں جو برے درختوں کی جر کے قریب پیدا ہوتے ہیں۔ہر آدمی کو ایک ربّ کی ضرورت ہے دیکھو انسان غذا کو گڑبڑ کر کے پیٹ میں پہنچالیتا ہے۔اب اسے دماغ میں ، دل میں، اعضائے رئیسہ