حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 590 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 590

علم و عمل اور انسانی کرم اندریوں بلکہ گیان اندریوں پر حکمران ہے۔پھر جسمانی حالت دونوں حالتوں کی تکمیل کے بعد انسان کی روحانی حالت زور پکڑتی ہے، اور ظاہر ہے کہ جب انسان کا جسم کمال پر پہنچا اور ہر قسم کی تکالیف سے صحیح و تندرست ہوا تو انسان کو اخلاقِ فاضلہ کی ضرورت ہے، مگر جب جسم و اخلاق دونوں کمال کو پہنچ جاویں تو اب اس کو ابدی اور لازوال آرام کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔اگر بقاء کی خواہش انسان کی فطرت و جبلت میں نہ ہوتی تو علمِ طب کی یہ ترقی نہ دیکھتے جو آج نظر آتی ہے اور مذہب کی تحقیق پر کوئی جلسہ نہ ہوتا۔نیکی اور نیک جلسہ کے اصول منضبط نہ ہوتے۔روح کی کامل محبت اور پورا پیار اور پوری چیز جس میں رُوح کو کامل طمانیّت ہے اس کا نام اسلام میں اﷲ۔تمام تعلقات سے خواہ جسمانی ہوں خواہ اخلاقی ، اندرونی ہوں یا بیرونی گ جب انسان کو ارام نہیں ملتا تو جو نام انسان کے لئے راحت بخش ہے اس کا نام ہے ۔انسان کا اصل مطلب اور غایت درجہ کا محبوب اور معبود۔غرض انسان نے تینوں حالتوں جسمانی۔اخلاقی۔روحانی میں جو جسم کا مربّی۔قویٰ کا مربّی۔روح کا مربّی ہے، اس کو اس سورہ میں ربّ النّاس کہا ہے اور وہ ذات جسمانی، اخلاقی، روحانی افعال، اقوال، اعتقادات پر جزا دیتا ہے تب اس کا نام ہے۔ملک النّاس۔اور جب وہ انسان کا اصل غرص ذاتی محبوب، غایت مقصود بنتا ہے تو اس کو  کہا ہے۔اب غور فرمائیں کہ جب ہر صورت میں انسان کی حالتوں کی طرف اشارہ کر کے اﷲ کریم نے فرمایا کہ ربّ بھی مَیں ہوں اور بادشاہ بھی میں ہوں اور محبوب و مطلوب اور غایتِ مقصود بھی مَیں ہی ہوں تو میرے بندو! مجھ کامل پاک زات سے پناہ مانگ لو اور کہہ دو، ہاں ہر ایک انسان تم سے کہہ دے کہ میں ربوبیت اور ضرورتِ حکومت میں اور صرورتب محبت میں ربّ النّاس، مِلک النّاس، اِلٰہ النّاس کی پناہ مانگتا ہوں اور پناہ بھی کس امر ہیں۔(الناس:۵ تا ۷)یہ قرآن کی آکری سورۃ کیسی بے نظیر اور لطیف ہے جس میں یہ بیان ہے کہ تم اﷲ کریم، المولیٰ، الرؤوف الرحیم، رب النّاس، ملک النّاسگ الہٰ الناس سے پناہ مانگ لو تمام ان غلیوں اور وسوسوں سے جو کسی مُوَسْوِسْ کے نطارہ یا کلام سے بندہ کو ہوں کیونکہ ان وسوسوں کی مثال ہوبہو اس تکلیف رساں کُتّے کی سی ہے جو آٹھوں پہر کاٹنے کے لئے تیار ہے جس طرہ اس کُتّے سے بجنے کے لئے ہم کو اس کے مالک کی پناہ مانگنی ہے اور اگر اس کا مالک ہمیں بچانا