حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 586
ایک کو معرفت کی خبر ہی نہیں، اور دوسرے کو معرفت حاصل ہو چکی ہے، پس وہ دونوں سبکسار ہیں کیونکہ یہ اپنے بوجھ اتار چکا ہے اور اس نے ہنوز بوجھ اٹھایا ہی نہیں۔لیکن مشکلات میں وہ شخص ہے جو درمیان میں ہے کیونکہ اس نے رذیل حالت میں رہنا پسند نہ کیا، اور اعلیٰ حالت کی طرف جانا چاہا ، لیکن راستہ میں مشکلات کا دریا ایسا آ گیا ہے، جس میں ہر طرف سے موجیں ہیں اور رات اندھیری ہے اور گرداب گھیرے ہوئے ہے۔اور ہر وقت خطرہ ہے کہ اب ڈوبے، اب ڈوبے، یہ درمیانی حالت نفسِ لوّامہ کی ہے۔اس کو معلوم ہو گیا ہے۔کہ نفسِ مطمئنہ ایک عظیم الشّان نعمت ہے۔ان لوگوں کی صحبت نے جو نفسِ مطمئنّہ حاصل کر چکے ہیں یا ان کے حالاتب عجیبہ کے سُننے سے اس کو رغبت پیدا ہوئی ہے کہ مَیں بھی نیک بن جاؤں اور ان لوگوں کے درمیان شامل ہو جاؤں اور بظاہر پہلی نظر اس کو بہت ہی آسان سمجھتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ میں منزل کو آسانی کے سات طے کر لوں گا اور ایسا ہی ہو جاوں گا جیسے کہ وہ لوگ ہیں، لیکن تھوڑے ہی دنوں میں معلوم ہو جاتا ہے کہ اس راہ میں بہت مشکلات ہیں اور بدیوں کا ترک کرنا اور نیک بن جانا آسان بات نہیں ہے، ایسے وقت میں جلّا اٹھتا ہے کہ عشق آساں نمود اوّل دِلے افتاد مشکلہا اور جب چاروں طرف سے اپنے آپکو تکالیف میں دیکھتا ہے۔تب معلوم ہوتا ہے کہ اس اعلیٰ حالت کا حصول کوئی آسان امر نہیں ہے۔ظاہر کہہ دینے کو تو ایک فقرہ ہے اور وہ بھی ایک چا سا کہ ’’ مَیں دین کو دنیا پر مقدّم کروں گا ‘‘ لیکن جب اس پر عمل شروع ہوتا ہے۔تب اس کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔جیسا کہ ایک ملازم کسی دفتر کا اس اقرار کے بعد اپنے دفتر میں جاتا ہے۔اور ایک طرف افسر زور دیتے ہیں کہ یہ کام فورًا کرو اور دوسری طرف نماز کا وقت آ جاتا ہے۔اس وقت معلوم ہو جاتا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدّم کرنے کے کیا معنی ہیں؟ یا ایک عہدہ دار سرکاری جس کے خرچ بہت ہیں اور تنخواہ تھوڑی ہے وہ جب اس اقرار کے بعد اپنے کام پر جاتا ہے اور آمدنی کو کم پاتا ہے اور خرچ زیادہ ہے اور رشوت کے وسائل کُھلے ہیں اور کوئی منع کرنے والا نہیں۔اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدّم کرنے کی کیا کیفیت ہوتی ہے۔رات کے وقت جب سردی کا موسم ہو اور گرم بستر کے اندر آدمی لیٹا ہو اہو اور ہر ایک سامان مہیاء ہو اور تہجد کا وقت اور خدا کے یاد کرنے کا وقت آ جا وے اور دل نہ چاہے کہ بستر سے اُٹھے، اس وقت انسان کو معلوم ہو جاتا ہے کہ میرا دین مقدّم ہے یا دنیا مقدّم ہے! غرض سلوک کی راہ میں سب سے مشکل مرحلہ وہی ہے جو نفسِ لوّامہ کو طے کرنا پڑتا ہے۔کیونکہ اس کو شیطان کے ساتھ اور اس کے لشکر کے ساتھ ایک جنگ درپیس ہے۔شیطان چاہتا ہے کہ وہ اس کو واپس