حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 582 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 582

سچے اصول کو اکھاڑنے کے درپے ہیں۔اس سورۃ شریفہ میں یہ بھی ظاہر ہوتا ہے۔کہ آخری زمانہ کا فتنہ محض دعا کے ذریعہ سے دور ہو گا۔چنانچہ اس کی تائید میں حدیث شریف میں ایا ہے۔کہ کفّار مسیح موعود کے دم سے مریں گے۔اور حصرت مرزا صاحب سے میں نے بارہا سُنا ہے۔آپ فرمایا کرتے ہیں کہ اس قدر فتنہ کا مٹانا ظاہری اسباب کے ذریعہ سے نہیں ہو سکتا۔ہمارا بھروسہ صرف ان دعاؤں پر ہے جو کہ ہم اﷲ تعالیٰ کے حضور میں کرتے ہیں۔خداوند تعالیٰ ہماری دعاؤں کو سُنے گا اور وہ خود ہی ایسے سامان مہیا کریگا کہ کفر ذلیل ہو جائے گا اور اسلام کے واسطے غلبہ اور عزّت کے دن آجائیں گے۔لطیفہ: کسی نے کہا ہے کہ قرآن شریف کا ابتداء حرف ب سے ہوا ہے۔اور آخر س کے ساتھ ہوا ہے۔یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن شریف انسان کے واسطے بسؔ ہے۔جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔(الانعام: ۳۹) اس کتاب میں کسی سئے کی کمی نہیں رہی۔اس مضمون کو کسی نے فارسی میں اس طرح ادا کیا ہے۔اوّل و آخر قرآن زچہ باؔ آمد وسؔ یعنی اندر دو جہاں رہبر ، قران بس لطیف فلسفی کہتا ہے کہ اس سورۃ شریف میں سب سے پہلے جو لفظ ناسؔ آیا ہے۔اس سے مراد اطفال ہیں اور ناسؔ ثانی سے مراد نوجوان لوگ ہیں۔اور ثالث سے مراد بوڑھے ہیں۔اور چہارم سے مراد صالحین ہیں اور پنجم سے مراد مفسدین ہیں۔کیا معنی؟ کہہ مَیں اس خدا کے حضور پناہ گزین ہوتا ہوں جو ربّ لالنّاس ہے، چھوٹے ناتواں بچوں کے واسطے بھی تمام سامانِ پرورش کرتا ہے۔اور ملک الناس ہے۔نوجوان جوشیلے لوگ سب اس کے قابو میں ہیں، الہٰ النّاس ہے۔جب آدمی بڑا ہوتا ہے۔اور چالیس سال سے زیادہ عمر پاتا ہے، تب اس کے عقائد اور معرفت کمال کو پہنچتے ہیں اور عادتیں نیکی پر پختہ ہو جاتی ہیں۔اور اپنے خدا کی عبادت میں پکّا ہو جاتا ہے، ایسے لوگوں کا معبود وہی خدا ہے، اس خدا کے حصور میں مَیں خنّاس کے وساوس کے سر سے پناہ چاہتا ہوں۔جو (الناس:۶) نیک لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔۔وہ خنّاس کچھ جن ہیں اور کچھ مفسد انسان ہیں۔یہ ایک عجیب دعا ہے جو خدا تعالیٰ نے خود ہم کو سکھائی ہے۔اس کے کسی قدر ہم معنے وہ دعا ہے جو دوسری جگہ قرآن شریف میں آتی ہے اور وہ اس طرح ہے۔