حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 581
بڑے فتنہ سے خدا تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا حکم دیتا ہے۔وہ فتنہ خنّاس کا ہے۔جو کہ لوگوں کے دلوں میں قسما قسم کے وساوس ڈال کر ان کو پیچھے ہٹانے کی کوشش کریگا۔کیونکہ یسوع کو خدا بنانے اور اس کی پُوجا کرنے کا فتنہ زمانہ نبویؐ سے پہلے دنیا میں پھیلا ہوا تھا اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ظہور نے اس کی خرابیوں کو دنیا پر ظاہر کر کے اس کا زور مٹا دیا تھا۔یہاں تک کہ خود نورِاسلام کی چمک سے جھلک پا کر عیسائی قوم میں اس قسم کے ریفارمر پیدا ہو گئے تھے۔جنہوں نے اپنی قوم میں سے یسوع اور مریم کے بُت بنانے اور بُتوں کی پُوجا کرنے کی رسم کو مٹانے کی کوشش کی۔اور اس کوشش میں بہت کچھ کامیابی بھی حاصل کی۔دوسری طرف لاکھوں عیسائی اپنے مذہب کی خرابیوں سے آگاہ ہو کر اور اس سے بیزار ہو کر اسلام میں داخل ہو گئے تھے۔غرص اسلام وہ مذہب تھا جس نے دیگر باطل ادیان کے ساتھ دینِ عیسوی کو بھی پست کر دیا تھا۔لیکن کہ مسلمانوں کو قرآن شریف اور اسلام سے پیچھے ہٹاکر پھر اُسی پُرانی گمراہی میں ڈال دے۔یہ خنّاس تعلیم دیتا ہے کہ ہمارا ربّ یسوع مسیح ہے۔چنانچہ عیسائیوں کی کتابوں میں لکھا ہوا ہوتا ہے رَبُّنَا الْمَسِیْحُ اور یسوع کا نام عیسائی کتب میں بادشاہ یعنی مَلِک ہے۔اور اس کی عبادت بھی کی جاتی ہے گویا کہ وہ اِلٰہ یعنی معبود ہے۔ان عقائد کی بیخ کنی کے واسطے اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ رَبّ اوراور ۔وہی ایک خدا ہے جس کی صفات حمیدہ کا قرآن شریف میں ذکر کیا گیا ہے۔اور جس کی وحدانیت کے بارے میں اس سورۃسے اوپر ایک سورۃ چھوڑ کر اس طرح بیان کیا گیا ہے۔۔۔۔(الاخلاص:۲ تا ۵) کہ وہ اﷲ ایک ہے، وہ بے احتیاج ہے، نہ اس کا کوئی بیٹا ہے نہ وہ کسی کا بیٹا ہے اور نہ اس کا کوئی کنبہ قبیلہ ہے۔اس سورۃ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے۔کہ آخری زمانہ جنگ کا زمانہ ہو گا۔اور اسلام سے لوگوں کی رُو گردانی کرناے کے واسطے کوئی لڑائی اور ظاہری جنگ کی کاروائی نہ ہو گی۔جیسا کہ پہلا کیا جاتا تھا۔بلکہ صدرور النّاس پر بذریعہ وساوس ہو گا۔اور وہ وسوسہ دالنے والے خنّاس دو قسم کے ہوں گے۔ایک تو پادری لوگ جن کے وساوس موٹے رنگ کے ہر طرح کے کذب اور بہتان کے ساتھ ہیں۔یہ خنّاس تو ناس میں سے ہے۔لیکن ایک بڑا خنّاس جو شرّ میں اس سے زیادہ سخت ہے۔لیکن اپنی شرارت میں کسی قدر مخفی ہے اس واسطے اس کو جنّ کہا گیا ہے اوہ اس زمانہ کے جھوٹے فلسفی اور جُزوی سائنس دان ہیں جو حقیقی فلسفہ اور سائنس سے بے خبر ہیں۔اور تعلیم یافتہ گروہ کو خفیہ رنگ میں دہریّت کی طرف کھینچ کر لے جا رہے ہیں۔حالانکہ بظاہر مذہب سے اپنے آپ کو بے تعلق ظاہر کرتے ہیں۔مگر باطن میں مذہب کے