حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 580
اس لائق ہے کہ ہمارا الٰہ ہو اور معبود ہو، اسی کی عبادت کی جاوے، اسی سے اپنی حاجتیں مانگنی چاہئیں۔اور اسی کی تعریف کرتے ہوئے سر اس کے آگے جھکایا جاوے۔پتھر کے بُت تو ہماری اپنی مخلوق ہیں اور ہم خود ان کی تربیت کرتے ہیں۔اور ان پر حکومت کرتے ہیں۔جس طرح چاہیں ان کو گھڑ کر بناتے ہیں اور جہاں جاہیں ان کو رکھتے ہیں۔برہمن کے قابو میں آیا تو اس نے زری کے کپڑے پہنا دیئے اور سونے کے زیوروں سے مرصّع کر دیا اور مہمودؔ کے ہاتھ لگا تو اس نے کات کر جوتیاں رکھنے کے واسطے دہلیز کے باہر گاڑ دیا۔رومن پادری نے اس پر سونے کا گِلْٹ کیا اور گرجے میں سجایا اور اس کے پروٹسٹنٹ بھائی نے اپنے باپ دادوں کی بے وقوفی پر مضحکہ اڑانے کے واسطے اسے عجائب گھر میں رکھ دیا، سو بُتوں کا تو ذکر ہی کیا۔جبکہ خود بُت پرست بھی بُتوں کو چھوڑنے جاتے ہیں، باقی رہے عناصر اور حیوان اور انسان جن کی بعض بے وقوف لوگ پُوجا کرتے تھے جو سب کے سب خود محتاج تھے اور اپنی عمر گزار کر مر گئے۔نہ ان میں سے کسی نے ہماری ربوبیت کی اور نہ کوئی ہمارا مالک اور مَلِک تھا اور نہ کوئی ہمارا معبود ہو سکتا ہے۔ظاہری بادشاہوں کی حکومت ظاہر حالات پر ہے۔چور چوری پر سے پکرا گیا تو اس کو سزا مل گئی۔لیکن چور جب چوری کی نیت کرتا ہے اور کسی کی عمدہ شَے دیکھ کر دل میں ارادہ کرتا ہے کہ موقعہ پر اسے اٹھا لے۔اس وقت اس کی نیت اور ارادے کو بجز خدا کے کون دیکھ رہا ہے۔پس حقیقی بادشاہ وہی ہے۔اس دعا میں انسان اﷲ تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہو کر اپنے خدا کے ساتھ اس تعلق کو یاد کرتا ہے کہ اے خدا تُو ہی میرا پرورش کنندہ ہے اور تو ہی میرا بادشاہ ہے اور تُو ہی میرا معبود ہے۔پس مَیں تیرے ہی حضور میں اپنی یہ درخواست پیش کرتا ہوں کہ نیکی کے حصول کے بعد جو انسان کے دل میں ایسے بُرے خیالات آتے ہیں کہ اس کو نیکی سے پیچھے ہٹانا جاہتے ہیں۔ان خیالات کے شرّ سے مجھے بچا۔اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وسوسوں کا پیدا ہونا ضروری ہے۔پر جب تک انسان ان کے شرّ سے بجا رہے یعنی ان کو اپنے دل میں جگہ نہ دے اور ان پر قائم نہ ہو۔تب تک کوئی حرج نہیں۔ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں عرض کی کہ میرے دل میں بُرے بُرے خیالات پیدا ہوتے ہیں۔کیا مَیں ان کے سبب سے گنہگار ہوں۔فرمایا۔فقط بمرے خیال کا اٹھنا اور گزر جانا تم کو گنہگار نہیں کرتا۔یہ شیطان کا ایک وسوسہ ہے جیسا کہ بعض انسان جو شیطان کی طرح ہوتے ہیں، لوگوں کے دلوں میں بُرے خیالات ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔پس فقط اُن کی بات سننے سے اور ردّ کر دینے کسے کوئی گنہگار نہیں ہوسکتا۔ہاں وہ گنہگار ہوتا ہے جو ان کی بات کو مان لیتا اور اور اس پر عمل کر لیتا ہے۔سورۃ النّاس قران شریف کی سب سے آخری سورۃ ہے اور اس کا مضمون آخری زمانہ میں ایک