حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 579
سُوْرَۃُ النَّاسِ مَکِّیَّۃٌ ۲ تا ۷۔۔۔۔ ۔۔ ۔اس طرح دعا کر۔جنّ ہو یا آدمی ہو، جو کوئی انسانوں کے سینے میں وسوسے ڈالتا ہے اور انسان کی ترقی کو روک کر اُسے پیچھے ڈال دیتا ہے، اس کے وسوسہ کی بدی سے اس خدا کے حضور میں پناہ گیر ہوتا ہوں۔جو انسانوں کا پرورش کندہ اور ان کا بادشاہ اور ان کا معبود ہے۔اس سورہ شریفہ میں اﷲ تعالیٰ کی تین صفتوں کا بیان کیا گیا ہے۔ربّ، مالک، الٰہ۔اور پھر ان ہر سہ صفات کے اُس پر تو کی طرف بالخصوص اسارہ کیا گیا ہے جو کہ انسان کے ساتھ تعلق رکھتا ہے کیا معنے۔وہ خدا جس نے انسان کو پیدا کیا، اس کو تمام قوٰی ظاہری و باطنی عطا فرمائے اور ان قوٰی کی تربیت کے واسطے ہر قسم کے سامان مہیا کئے۔یہ جنین تھا تو ماں کے پیٹ کے اندر ہی اُسے غذا پہنچائی، پیدا ہوا تو ساتھ ہی ماں کی چھاتیوں میں اپنی غذا کا ذخیرہ موجود پایا، اسے چھوڑا تو ماں باپ اور اقرباء کو اپنے سامانِ خوردنی، پوشیدنی کے مہیا کرنے میں مصروف پایا، برا ہوا تو محنت مزدوری کی اور خدا نے اس میں برکت ڈالی۔اس لفظ میں اپنے اصل مربّی کے بے انتہا احسانات کو یاد کرنے کے بعد اس دعا میں انسان اپنے خدا کو یاد کرتا ہے جو اس کا حقیقی بادشاہ ہے۔اُسی کے قبضۂ قدرت میں تمام زمین اور آسمان کی کَل ہے۔چاہے تو ایک آن میں زلزلہ یا بجلی سے یا اور جس طرح چاہے۔سب کو فنا کر دے، یا فنا شدوں خیالات اس کی نگاہ میں ہیں۔بغیر اس کے اذن کے نہ کوئی کسی کو نفع دے سکتا ہے اور نہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔وہ مَلِکِ النَّاس ہے۔پس وہ جو ہمارا ربّ ہے اور جو ہمارا مُلِک ہے اور سلطان ہے۔وہی