حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 578
کاروائیاں پہلے کبھی کسی نے نہیں کیں۔ایسے ایسے راہوں سے اسلام پر حملہ کرنے کے واسطے کوشش کی جاتی ہے کہ عوام تو سمجھ بھی نہیں سکتے کہ اس معاملہ میں کیا درپردہ شرارت ہے لیکن خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں ایک ایسا نُور پیدا کیا ہے جس نے نمودار ہو کر ان تمام پردوں کو پھاڑ دیا ہے اور دجّال کا دجل کھول کر لوگوں کو دکھا دیا ہے تاکہ مخلوقِ الہٰی اس کے شر سے بچی رہے۔اور اس کے پھندے میں نہ آئے۔افسوس ہے اُن لوگوں پر جو خدا تعالیٰ کے اس نور کو اپنے مُنہ کی پھونکوں سے بُجھانا چاہتے ہیں۔وہ یاد رکھیں کہ یہ نورِ الہٰی ضرور غالب آئے گا اور اس کے مخالف سب نامراد اور ناکام مریں گے۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍ دسمبر ۱۹۱۲ء) احادیث متعلقہ صفحہ ۵۷۲ اَعُوْذُ بِعِزَّۃِ اﷲِ وَ قُدْرَتِہٖ مِنْ شَرِّمَا اَجبدُوَ اُحَاذبرُ ( سَبْعًا) اﷲِ اَرْقِیْکَ مِنْ کُلِّ شَیْئِپناہ چاہتا ہُوں مَیں اﷲ کی عزّت اور قدرت کی اس چیز کی بدی سے جو پاتا ہوں مَیں ( سات بار کہے )اﷲ کے نام کے منتر پڑھتا ہوں کہ تجھ پر ہر چیز یَؤْذِیْکَ مِنْ شَرِّ کَلِّ ننفْسٍ اَوْ عَیْنٍ حَاسِدٍ۔اﷲُ یَشْفِیْکَ بِسْمِ اﷲِ اَرْفِیْکَ اَعِیْذُ کُمَا بِکَاِمَاتِ اﷲِ النَّامَّۃِ مِنْ سے جو ایذاء سے تجھ کو بدی سے ہر جان کے اور آنکھ سے حسد کرنیوالے کے اور شفا دے تجھ کو اﷲ کے نام سے منتر پڑھتا ہوں تجھ پر پناہ میں دیتا ہوں مَیں تم دونوں شَرِّ کُلِّ شَیْطَانٍ وَ ھَامَّۃٍ وَّ مِنْ کُلِّ عَیْنٍ اَسْأَلُ اﷲَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَنْ یَشْفِیْکَ۔بِسْمِ اﷲِ کو اﷲ کے کلموں کی جو پوری ہیں بدی سے ہر شیطان اور جانور ایذاء دینے والے اور ہر آنکھ نظر لگانیوالی کی سے مانگتا ہوں اﷲ عظمت والے سے جو صاحب ہے عرش بڑے کا الْکَبِیْرِ اَعُوْذُ بِاﷲِ الْظبیْمِ مِنْ شَرِّکُلِ عِرْقٍ نَعَارٍ ون مِنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ۔رَبُّنَا اﷲُ الَّذِیْ فِی السَّمَآئِ تَقَدَّسَ اِسْمُکَ کہ شفا دے تجھ کو۔ساتھ نام اﷲ بڑائی والے کے پناہ چاہتا ہوں اﷲ کی جو عظمت والا ہے بدی سے ہر رگ جوش مارنیوالی کے اور بدی سے دور شاکی گرمی کے۔ربّ ہمارا اﷲ ہے جو اَمْرَکَ فِی السَّمَآئِ وَ الْاَرْضِ کَمَارَ حْمَتُکَ فِی السَّمَآئِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَکَ فِی الْاَرْضِ اغْفِرْ لَنَا حَوْبُنَا وَ خَطَایَانُا۔آسمان میں ہے پاک ہے نام تیرا حکم ہے تیرا آسمان اور زمین میں جس طرح ہے رحمت تیری آسمان میں۔پس کر رحمت اپنی زمین میں بخس واسطے ہمارے گُناہ ہمارے اور چؤک ہماری:۔اَنْتَ رَبَّ الطَّیِّبِیْنَ اَنَزِلْ رَحْمَہٌ مِّنْ رَحْمَتِکَ وَشَفَائٌ مِّنْ شَفَائِکَ عَلٰی ھٰذَا لْوَجْعِ اَللّٰھُمَّ اِشْفِ عَبْدَکَ تُوہے صاحب پاکوں کا اتار رحمت اپنی میں سے رحمت اور شفا اپنی شفا میں سے اس بیماری پر اسے اﷲ شفا دے اپنے بندے کو کہ زخمی کرے تیری یَنْکَألَکَ عَدُوَّا وَ یَمْشِیٹ لَکَ اِلٰی جَنَازَۃٍ۔اللّٰھُمَّ اَحْیِنِیْ مَکَانَتِ الحَیٰوۃُ خَیْرُابیْ وَتَوفَنِیْ اِذَاکَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرُالِی۔راہ میں دشمن کو اور چلے تیرے وقسطے ساتسھ کسی جنازہ کے۔اے اﷲ جلا تُو مجھ کو جب تک کہ ہو زندگی بہتر میرے واسطے اور مار مجھ کو جس وقت ہو موت بہتر اَعّٰھممَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ جَھْدِالْبَلَآئِ وَ دَرْکِ الشَّفَا ئِ ونسُوعِ القُضْآئِ وَشَمَانَۃب الْاَغبدآئِ۔اللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ واسطے میرے۔اے ﷲ تیرے پناہ مانگتا ہوں بلاء کی مشقت سے اوربدبختی کے ملنے سے اور ہر بُرے فیصلہ سے اور دشمنوں کے خوش ہنوے سے۔اے مِنَ الْھنمِّ وَالْحُزْنِ ون الْعِجْزِ وَ الْکُسْلِ وَ الْجُبْنِ وَ الْبُخْلِ وَ ضَلْعب الدَّیْنِ وَ غْلَبَۃِ الرِّحَالِ۔اﷲ تحقیق مَیں پناہ چاہتا ہوں فکر اور غم سے اور ناتوانی اور سُستی سے اور نامردی اور بخل سے اور فرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے غلبہ سے؟ ۔۔۔ شروع ساتھ نام اﷲ کے بخسنے والا مہربان۔کہہ پناہ پکڑتا ہوں ساتھ رب صبح کے۔اُس چیز کے شر سے جو پیدا کیا ہے۔اور شر اندھیرا کرنیوالے ۔۔۔کے سے جبکہ چُھپ جاوے اور شر پھونکنے والیوں کے ہے گِرہوں میں۔اور شرحسد کرنے والے کے سے جبکہ خسد کرے: بامحاورہ تفسیری ترجمہ:۔اس طرح سے دُعا مانگ مَیں اپنے اُس پروردگار کے حضور میں پناہ گیر ہوتا ہوں جو اندھیرے کو دُور کر کے صبح کی روشنی پیدا کرتا ہے۔امس کے حضور میں پناہ گیر ہوتا ہوں ان تمام چیزوں کی بدی سے جو پیدا ہوئی ہیں اور اندھیرا کرنیوالے کی شرارت سے جبکہ وہ چھپ جاوے اوران کی شرارت سے جو گرہوں میں پھونکیں دیکر مخلوق الہٰی کو دُکھ دینے کے درپے رہتے ہیں اور حسد کے شر سے جبکہ وہ حسد پر کمر باندھے۔