حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 576 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 576

نظر سے غائب ہو جاوے۔حدیث شریف میں آیا ہے رَوَی اَبُوْسَلْمَۃَ عَنْ عَألِشَۃَؓ اُنَّہٗ اَخَذَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ بِیَدِھَا وَ اَشَارَ اِلَی الْقَمَرِ وَقَالَ اسْتَعِیْذِیْ بِاﷲِ مِنْ شَرِّ ھٰذَا فَاِنَّہُ الْغَاسِقُ اِذَا وَ قَبَ۔ابوسلمہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ہے کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت عائشہؓ کا ہاتھ پکڑا اور چاند کی طرف جبکہ وہ کسوف میں تھا اشارہ کر کے فرمایا کہ اس کے شر سے اﷲ تعالیٰ کے حضورمیں پناہ مانگ کہ یہ اندھیرا کرنے والا ہے جبکہ چھپ جائے۔: گرِہوں میں پھونکنے والیاں۔اَلنَّفّٰثٰتِ النَّفْخُ وَ مَعَ رِیْقٍ۔نفث کے معنے ہیں پھونکنا جن میں تھوک بھی ہو۔گرہ میں پھونکنا جیسا کہ جادو گر لوگ تاگوں میں گرہیں ڈال کر پھونکتے ہیں۔اور لوگوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ اس کا اثر ہوتا ہے۔گرہ میں پھونکنا اور گرہ دینا یہ ایک محاورہ ہے۔جس کے معنی ہیں کسی کام میں روکاوٹ ڈالنے کے واسطے کوشش کرنا جیسا کہ وہ لوگ جو جادوگری کا پیشہ رکھتے ہیں اپنی جھوٹی جادوگری میں کامیابی حاصل کرنے کے واسطے خفیہ تدابیر کرتے ہیں۔ظاہر تو کرتے ہیں کہ فلاں آدمی کو ہم نے جادو کے ذریعہ سے بیمار کر دیا ہے۔اور دراصل کسی خفیہ ذریعہ سے اس قسم کی دوائیاں اس شخص کو کھلا دیتے ہیں جن سے وہ بیمار ہو جائے۔پس ایسے خفیہ شریر لوگوں کی شرارت سے بچا رہنے کے واسطے اﷲ تعالیٰ کے حضور میں ہمیشہ دعا کرتے رہنا چاہیئے۔حَاسِدٍ: وہ ہے جو خواہش کرے کہ دوسرے کے پاس جو عمدہ شَئے ہے وہ اس کو مل جاوے بسا اوقات اس حسد میں اس شخص کو نقصان پہنجانے کی بھی خواہش اور کوشش کرتا ہے جس کو اس نعمت کا مالک دیکھتا ہے۔لفظ حاسدؔ کو اس جگہ نکرہ رکھا ہے۔معرفہ نہیں رکھا۔اس میں یہ حکمت ہے کہ حسد ہمیشہ بُرا نہیں ہوتا۔بلکہ اگر نیکیوں کے حصول کے واسطے حسد کیا جائے تو وہ حسد محمود ہے۔اس سورۃ میں انسان کے جسمانی فوائد کے واسطے دعا ہے اور اگلی سورۃ میں روحانی فوائد کی باتیں مندرج ہیں۔یہ سورۃ بھی بجائے خود ایک جامع دعا ہے جن میں چار چیزوں سے اﷲ تعالیٰ کے حضور میں پناہ مانگی گئی ہے۔ا۔تمام مخلوقات کے شرّ سے۔۲۔تاریکی کرنے والی اشیاء کے شرّسے۔