حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 575
یَاعُدَّتِیْ فِیْ شِدَّتِیْ وَ یَا مُوْنِسِیْ فِیْ وَحْشَتِیْ وَ رَاحِمِ غُرْبَتِیْ وَ کَا شِفِ کُرْبَتِیْ وَیَا مُجِیْبُ دَعْوَتِی ْ وَیَا اِلٰھِیْ وَاِلٰہَ اٰبنائِیْ اِبْرَاھِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ۔اِرْحَمْ صِغْرَسِنِیٌ وَ ضُعْفَ رُکْنِیْ وَ قِلَّۃَ حِیْلَتِیْ یَا حَیِّیُ یَا قَیُّوْمُ یَاذَا الْجَلَالِ وَ الْاِکْرَامِ۔اے میرے ہتھیار میرے مصائب میں اور میرے مونس میری وحشت کے وقت اور اے رحم کرنے والے میری غریب پر اور اے میری گھبراہٹ کے دور کرنیوالے اور اے میری دُعا کے قبول کرنے والے اور اے میری دُعا کے قبول کرنے والے اور اے میرے معبود اور میرے باپ دادوں کے معبود ابراہیم و اسحٰق اور یعقوب کے معبود میری چھوٹی عمر پر رحم کر اور میرے ضعفِ رکن پر رحم فرما اور میرے حیلہ کے کم ہونے پر رحم کر۔اے حيّ اے قیّوم۔اے صاحبِ جلال اور اکرام۔: جو کچھ خدا نے پیدا کیا۔اس کے شرّ سے۔یعنی تمام پیدائش الہٰی میں جو اشیاء انسان کے واسطے مضر اور خراب اور تکلیف دہ ہیں ان سب سے اﷲ تعالیٰ کے حضور میں پناہ چاہتا ہے۔بعض کا قول ہے۔کہ سے مراد شیطان ہے کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی شَئے انسان کے واسطے موجبِ شر اور دُکھ اور تکلیف نہیں۔ایک قول یہ ہے کہ سے مراد جہنم ہے گویا کہ انسان خدا تعالیٰ کے حضور جہنم سے پناہ چاہتا ہے۔بہر حال اس میں تمام موذی اور دُکھ دینے والے اور خد اسے دور رکھنے والی اشیاء سے خدا کے حضور پناہ مانگی گئی ہے۔خواہ وہ شیطان ہو یا جِنّ یا موذی حیوان مثل بچّھو۔سانپ۔شیر وغیرہ۔غَاسِق: اندھیرا کرنے والا۔ہر ایک چیز جو تاریکی اور ظلمت پیدا کرے۔غاسق رات کو کہتے ہیں اور غسق تاریکی کو کہتے ہیں کیونکہ رات تاریکی پیدا کرتی ہے۔اس واسطے وہ غاسق ہے۔اور غسق برو کو بھی کہتے ہیں۔کیونکہ رات بہ نسبت دن کے ٹھنڈی ہوتی ہے۔غاسق ثریّا کو بھی کہتے ہیں۔کیونکہ اس کا گرنا عمومًا وباء اور بیماریوں کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔اور غاسق سورج کو بھی کہتے ہیں جبکہ غروب ہو جاوے اور چاند کو بھی کہتے ہیں جبکہ اس کو گہن لگے۔غاسق سانپ کو بھی کہتے ہیں جبکہ وہ کاٹ کھائے اور ہر ایک ناگہاں آنے والی چیز جو ضرر پہنچائے یا بھیک مانگنے والا جبکہ وہ تنگ کرے تو اس کو بھی غاسق کہتے ہیں غرض ہر ایک چیز جو انسان کو ظلمتِ روحانی یا جسمانی میں ڈالے اس کو غاسق کہتے ہیں۔جب رات بہت تاریک ہو تو عرب کے محاورہ میں کہتے عَسَقَاللَّیْلُ۔اور جب آنکھیں آنسووں سے بھر جائیں تو کہتے ہیں۔غَسَقَتِالْعَیْنُ اور جب زخم پیپ سے بھر جائے تو کہتے ہیں غَسَقَتِ الْجَرَاحَۃُ۔وَقَبَ: کے معنے ہیں چُھپ گیا۔وقبؔ کے اصلی معنے ہیں کسی شَئے میں داخل ہونا۔ایسا کہ وہ