حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 574 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 574

فلق سے مراد تمام مخلوقات ہے کیونکہ وہ سب کے سب مذکر کے اصلاب سے اور مؤنث کے ارحام سے نکلے ہیں۔ایسا ہی دانہ پھٹتا ہے تو اس سے سبزی نکلتی ہے اور بعض کہتے ہیں کہ فلق وہ ہے جو کسی شَے سے پھٹ کر جدا ہوتی ہے اور یہ عام ہے تمام مخلوقات پر۔کیونکہ اﷲ تعالیٰ اس کے عدم کی ظلمت کو پھاڑ کر اس کو وجود کی روشنی میں لاتا ہے۔اور فلقؔ کے ذکر کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو ذات صفحۂ عالم سے ان ظلمات اور تاریکیوں کو محو کرنے اور مٹا دینے پر تام قدرت رکھتی ہے اسے یہ بھی طاقت اور قدرت ہے کہ جو شخص عاجزی کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس سے پناہ جُو ہوتا ہے وہ اس کے تمام خور اور دہشت کو دُور کر دیتا ہے۔علاوہ ازیں صبح کا طلوع ہونا آغازِ فرحت و سرور کی مثال ہے کہ جس طرح آدمی تمام رات طلوعِ فجر کا انتظار کرتا ہے۔اسی طرح خائف و عائذ ، نجاح و فلاح کے طلوعِ صبح کا انتظار کرتے ہیں۔بہرِ تقدیر خدا تعالیٰ کے حضور پناہ مانتنی چاہیئے۔تمام مخلوق کی برائی سے۔موذی آدمی۔جنّ درندے۔وحشی جانور، سانپ بچّھو وغیرہ سے… کعب بن احبار فرماتے ہیں۔کہ دوزخ میں ایک لق و دق جنگل ہے اس کا نام فلق ہے۔جب وہ کھولا جاتا ہے تو سارے دوزخی اس کی شدّت گرمی کی وجہ سے چیخنے لگتے ہیں۔بعض کہتے ہیں۔کہ دوزخ کی تہہ میں ایک کنواں ہے۔جسے فلق کہتے ہیں۔اس پر ایک پردہ پڑا ہوا ہے۔جب وہ اٹھا دیا جاتا ہے۔تو اس میں سے ایک ایسی سخت آگ نکلتی ہے جس سے خود جہنم چیختی ہے۔علاوہ اس کے اور بھی بہت سے اقوال ہیں۔مگر سب سے صحیح تر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ فلق صبح کو کہتے ہیں یا دانہ یا گٹھلی کے پھوٹنے اور اُگنے کا نام ہے۔بعض نے کہا ہے کہ یوسف علیہ السلام جب کنوئیں میں ڈالے گئے تھے تو آپ کے گھٹنے میں سخت درد ہوا( شاید گرنے کے سبب چوٹ لگی ہو) ایسا سخت درد ہوا کہ تمام رات جاگتے ہوئے گزری۔یہاں تک کہ طلوعِ صبح کا وقت ہو گیا۔تب ایک فرشتہ نازل ہوا جس نے آپ کو تسلّی دی اور کہا کہ خدا تعالیٰ سے دُعا مانگو۔وہ اس درد کو دُور کر دیگا۔حضرت یوسفؑ نے اس فرشتے کو کہا کہ تُو دُعا کر۔مَیں آمین کہوں گا چنانچہ اس فرشتے نے دعا کی اور حضرت یوسفؑ نے آمین کہی۔تب خدا تعالیٰ نے اس دُعا کو قبول فرمایا اور وہ درد تھم گیا اور ان کو آرام دیا جائے۔فرشتے نے اس دُعا پر بھی آمین کہی اور کہتے ہیں۔یہی سبب ہے کہ صبح کے وقت ہر بیمار کو تھوڑا بہت افاقہ ہو جاتا ہے۔وہ دعا حضرت یوسفؑ کی مفصّلہ ذیل الفاظ میں تھی۔