حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 573
دشمن ہے۔اور اس چیز سے مجھے فائدہ ہاصل ہو سکتا ہے اور اس سے نقصان کا احتمال ہو سکتا ہے گویا اس میں انسان اﷲ تعالیف کے حصور دعا کرتا ہے کہ اے پروردگار اگرچہ ہم اپنی نادانی اور بے علمی اور گناہ گاری کے سبب ایک ظلمت اور تاریکی در تاریکی میں پڑے ہوئے ہیں۔لیکن تیری وہ ذات ہے کہ تمام تاریکیوں کو دور کر دیتی ہے اور روشنی اور نور پیدا کر کے دُکھ دینے والی چیاوں سے انسان کو بجانے والا تُو ہی ہے۔پس تُو ہی ہم پر رحم فرما۔کیونکہ تیرے حضور میں اپنی تمام تاریکیوں سے پناہ گزین ہوتے ہیںقَالَ الْعَرَ بُ فِیْ لُغَاتِ الْقُرْاٰنِ۔اَلْفَلَقُ شَقُّ الشَیْیِٔ اَوْ اِبَانَۃُ بَعْضِہٖ عَ نْ بَعْضٍ یُقَالُ فَلَقَتْہٗ فَانْفَلَقَ۔قَالَ اﷲُ ( تَعَالٰی) فَالِقُ الْاِصْبَاحِ وَقَالَ فَلِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰی ( الانعام:۹۶) وَ قَالَ فَاَوْحَیْنَا اِلٰی مُوْسٰی اَنِ اضْرِبْ بِعَصَاکَ الْبَحْرَ فَانْفَلَقَ۔قِیْلَ ھُوَضَوْعُ الصُّبْحِ وَ اِنَارَتُہٗ وَ الْمَعْنٰی قُلْ یَامُخَاطِبُ اعْتَصِمْ وَ امْتَنِعْ بِرَبِّ الصُّبْحِ وَ خَالِقِہٖ وَ مُدَبِّرِہٖ وَ مُطَّلِعِہٖ مَتٰی شآئَ عَلٰی مَایُرٰی مِنَ الصَّلَاحِ فِیْہِ وَ یُقَالُ ھُوَا لْخَلْقُ کُلُّہٗ لِاَنَّھُمْ یَنْفَلِقُوْنَ بِالْخُرُوْجِ مِنْ اَصْلَابِ الْاٰبَائِ وَاَرْحَامِ یَعُمُّ جَمِیْعَ الْمَسْکَنَاتِ لِاَنَّہٗ جَلَّ شَانُہٗ فَلَقَ ظُلْمَۃَ عَدْ مِھَا بِنُوْرِ ایْجَادِھَا۔فَلَق کسی شے کے پھٹنے کو یا بعض سے بعض کو جدا کرنے کو کہتے ہیں۔جیسا کہ عربی میں کہتے ہیں۔فَلَقْتُہٗ فَانْفَلَقَ میں نے اُسے پھاڑا پس وہ پھٹ گیا۔ایسا ہی خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔فَالِقُ الْاِصْبَحِ صبح کا پھاڑنے والا، ظاہر کرنے والا، نمودار کرنے والا اور ایسا ہی خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے فَلِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰی دانے اور گٹھلی کا پھاڑنے والا اور اُن سے درخت بنانے والا اور ایسا ہی قرآن شریف میں آیا ہے۔ (الشعراء: ۶۴) پس ہم نے موسٰی کو وحی کی کہ اپنی جماعت کو دریا میں لے چل۔پس وہ دریا پھٹ گیا۔اور جماعت کے واسطے راستہ ہو گیا اور لشکر صاف نکل گیا اور ایسا ہی اﷲ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ مَیں پناہ پکڑتا ہوں۔ساتھ پروردگار فلق کے اس جگہ فلق حرف ل کی زبر کے ساتھ ہے اور اس کے معنی ہیں۔صبح کی روشنی اور اس کا چمکنا اور اس کے معنے یہ ہیں کہ اے مخاطب حفاظت طلب کرگ اور پناہ مانگ، اس رب کے حضور میں جو صبح کا رب اور خالق اور مدبقر ہے۔اور اس کے چڑھانے والا ہے۔جب چاہے اور جس کے لئے اس میں صلاصیت دیکھے اور بعض کا قول ہے کہ اس جگہ