حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 572
سزا دیتی ہے۔ایسے لوگوں کی شرارتوں سے بچنے کے واسطے انسان کو چاہیئے کہ ہمیشہ ہوشیار رہے اور ہوشیاری کا سب عمدہ اور اعلیٰ طریقہ یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے حصور میں ان کی شرارت سے پناہ مانگی جائے۔اس سورۂ شریفہ سے پہلے سورۂ اخلاص ہے۔جس میں اﷲ تعالیٰ کی توحید کا تذکرہ ہے۔اور اس کے ساتھ ان دو سورتوں میں اس فیضان کا تذکرہ ہے جو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے انسان پر وارد ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر جادو کا اثر نہ ہونے کی ایک ظاہر دلیل یہ ہے کہ آنحضرت ؐ کو مسحور کہنا تو قرآن شریف میں کفّار کا قول ہے جو کہ جھوٹا قول ہے۔اور نیز خدا تعالیٰ کا کلام ہے (مائدہ:۶۸) پھر کس طرح ممکن ہو سکتا ہے کہ کسی یہودی کا جادو آنحضرت ؐ پر چل جاتا۔اس جگہ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے۔کہ بیماری کے وقت بیمار کے حق میں دعا کرتے ہوطے خدا تعالیٰ سے استعاذ کرنا طریقِ سنّت ہے۔دوا کرنا بھی ضروری ہے مگر اُس کے ساتھ دعا بھی چاہیئے۔چنانچہ حدیث شریف میں آیا ہے۔قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲِ عَلَیہِ وَ سَلَّمَ یُعَلِّعُنَا مِنَ الْاَوْجَاعِ کُلِّھَا وَ الْحُمّٰی ھٰذَا الدُّعَائَ بِسْمِ اﷲِ الْکَریْمِ انعُوْذُ بِاﷲِ الْعَظِیْمِ مِنْ شَرِّکُلِّ عَرْقٍ نَعَّارٍ وَ شَرِّ حَرِّالنَّارِ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا۔کہ تمام دردوں اور بخار کے وقت رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم ہم کو یہ دُعا سکھایا کرتے تھے۔اﷲ کے نام کے ساتھ جو کریم ہے۔خدا عظیم کی پناہ مانگتا ہوں۔کبر کے شر سے اور آگ کی گرمی کے شر سے۔اس طرح خدا تعالیٰ کے حصور میں پناہ مانگنے کی دعائیں بہت سی احادیث میں وارد ہیں۔جن میں سے بعض بمعہ ترجمہ اس جگہ نقل کی جاتی ہیں ۱؎۔فَلَقٌ: اس چیز کو کہتے ہیں جو کہ پھٹ کر پیدا ہو۔جیسا کہ دانہ جو زمین میں بویا جاتا ہے اور جب اس کو نمی پہنچتی ہے تو وہ پھٹ جاتا ہے اور اس میں سے ایک بڑا درخت پیدا ہوتا ہے۔ایسا ہی فلق صبح کو بھی کہتے ہیں۔کہ رات کی تاریکی پھٹ جاتی ہے اور اس میں سے صبح کی روشنی نمودار ہوتی ہے۔زجاج کا قول ہے اَلْفَلَقُ اَلصُّبْحُ لِاَنَّ اللَّیْلَ یَفْلِقُ عَنْہُ الصُّبْحم وَیَفْرِقُ فعل بمعنی مفعول۔فَلَق صبح کو کہتے ہیں کیونکہ رات سے صبح نکلتی ہے اور جدا رہتی ہے۔اس جگہ فعل مفعول کے معنوں میں آیا ہے۔اس کی مثال ہیھُوَاَبْیَنُ مِنْ فَلَقِ الصُّبْحِ۔ایسا ہی قرآنس شریف میں اﷲ تعالیٰ کی صفات میں بیان ہوا ہے کہ وہ فَالِقُ الْاِصْبَاحِ ( الانعام:۹۷) ہے۔رات کے وقت جب تمام دنیا پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔تو بادشاہ اور سپاہی، امیر اور غریب سب برابر ہو جاتے ہیں تاریکی جیں شناخت نہیں ہو سکتی کہ دشمن کون ہیں اور دوست کون ہیں۔کونسی چیز مفید ہے اور کون سی چیز ضرر دینے والی ہے۔لیکن جب صبح کی روشنی نمودار ہوتی ہے تو انسان پہچان لیتا ہے کہ یہ میرا دوست ہے اور یہ :۔احادیث صفحہ ۵۷۸ پر ملاحظہ کریں