حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 570 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 570

: کسی کی عزّت ، بھلائی، برائی، بہتری، اِکرام اور جاہ و جلال کو دیکھ کر جلنے والے لوگ بھی بڑے خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ وہ بھی انسانی ارادوں میں بوجہ اپنے حسد کے روک پیدا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔غرض یہ سورۃ مشتمل ہے ایک جامع دُعا پر۔رسول اکرمؐ نے اس سورۃ کے نزول کے بعد بہت سے تعوّذ کی دعائیں ترک کر دی تھیں اور اسی کا ورد کیا کرتے تھے۔حتّی کہ بیماری کی حالت میں بھی حضرت عائشہؐ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا اس سورۃ کو آپؐ کے دست مبارک پر پڑھکر آپؐ کے مُنہ اور بدن پر مَلتی تھیں۔مگر افسوس کہ مسلمانوں نے عام طور سے اب ان عجیب پُر تاثیر اَورَاد کو قریباً ترک ہی کر دیا ہے۔انسان جب ایک گناہ کرتا ہے تو اُسے دوسرے کے واسطے بھی تیار رہنا چاہیئے کیونکہ ایک گناہ دوسرے کو بلاتا ہے اور اسی طرح سے ایک نیکی دوسری نیکی کو بلاتی ہے۔دیکھو بدنظری ایک گناہ ہے۔جب انسان اس کا ارتکاب کرتا ہے تو دوسرے گناہ کا بھی اسے ارتکاب کرنا پڑتا ہے اور زبان کو بھی اس طرح شامل کرتا ہے کہ کسی سے دریافت کرتا ہے کہ یہ عورت کون ہے۔کس جگہ رہتی ہے وغیرہ وغیرہ۔اب زبان بھی ملوّث ہوئی اور ایک دوسرا شخص بھی اور جواب سننے کی وجہ سے کان بھی شریک گناہ ہو گئے اس کے بعد اس کے مال اور روپیہ پر اثر پڑتا ہے اور اس گناہ کے حصول کے واسطے روپیہ بھی خرچ کرنا پڑتا ہے۔غرض ایک گناہ دوسرے کا باعث ہوتا ہے۔پس مسلمان انسان کو چاہیئے کہ ایسے ارادوں کے ارتکاب سے بھی بچتا رہے۔اور خیالاتِ فاسدہ کو دل میں جگہ نہ پکڑنے دے اور ہمیشہ دعاؤں میں لگا رہے ہے۔انسان اپنی حالت کا خود اندازہ لگا سکتا ہے۔اپنے دوستوں اور ہم نشینوں کو دیکھتا رہے کہ کیسے لوگوں سے قطع تعلق کیا ہے۔اور کیسے لوگوں کی صحبت اخیتار کی ہے۔اگر اس کے یار آشنا اچھے ہیں اور جن کو اس نے چھوڑا ہے ان سے بہتر اسے مل گئے ہیں۔جب تو خوشی کا مقام ہے ورنہ بصورتِ دیگر خسارہ دیکھنا چاہیئے کہ جو کام چھوڑا ہے اور جو اختیار کیا ہے۔اُن میں سے اچھا کون سا ہے۔اگر بُرا چھوڑ کر اچھا کام اختیار کیا ہے۔تو مبارک۔ورنہ خوف کا مقام ہے۔کیونکہ ہر نیکی دوسری نیکی کو اور ہر بدی دوسری بدی کو بُلاتی ہے۔اﷲ تعالیٰ تم کو توفیق دے کر تم اپنے نفع اور نقصان کو سمجھ سکو۔اور نیکی کے قبول کرنے اور بدی کے چھوڑنے کی توفیق عطا ہو۔(الحکم ۶؍جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۳۔۴) اس طرح سے دعا مانگ۔میں اپنے اُس پروردگار کے حضور میں پناہ گیر ہوتا ہوں۔جو اندھیرے کو دور کر کے صبح کی روشنی پیدا کرتا ہے۔اُس کے حضور مَیں پناہ گیر ہوتا ہوں۔ان تمام چیزوں کی بدی سے جو