حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 569
اُن سے بھی اﷲ تعالیٰ ہی بچا سکتا ہے کیونکہ وہ بھی خدا ہی کے قبضۂ قدرت میں ہیں۔ اور اندھیرے کے شر سے جب وہ بہت اندھیرا کر دیوے۔ہر اندھیرا ایک تمیز کو اٹھاتا ہے۔جتنے بھی موذی جانور ہیں۔مثلاً مچھر، پسو، کھٹمل ،جُوں، ادنیٰ سے اعلیٰ اقسام تک کل موذی جانوروں کا قاعدہ ہے کہ وہ اندھیرے میں جوش مارتے ہیں اور اندھیرے کے وقت ان کا ایک خاص زور ہوتا ہے۔ظلمت بھی بہت قسم کی ہے۔ایک ظلمتب فطرت ہوتی ہے۔جب انسان میں ظلمت فطرت ہوتی ہے تو اس کو ہزر دلائل سے سمجھاؤ اور لاکھ نشان اس کے سامنے پیس کرو۔وہ اس کی سمجھ میں ہی نہیں آ سکتے۔ایک ظلمتِ جہالت ہوتی ہے۔ایک ظلمتِ عادت، ظلمتِ رسم، ظلمتِ صحبت، ظلمتِ معاصی غرض یہ سب اندھیرے ہیں۔دعا کرتی چاہیئے کہ اﷲ تعالیٰ ان سب سے محفوظ رکھے۔: اس قسم کے شریر لوگ بہت خطرناک ہوتے ہیں۔مَیں نے اس قسم کے لوگوں کی بہت تحقیقات کی ہے اور اس میں مشغول رہا ہوں اور طب کی وجہ سے ایسے لوگوں کو بھی میرے پاس آنے کی ضرورت پڑی ہے اور میں نے ان لوگوں سے دریافت کیا ہے۔ان لوگوں کو خطرناک قسما قسم کے زہر یاد ہوتے ہیں۔جن کے ذریعہ سے بعض امراض انسان کے لاحقِ حال ہو جاتی ہیں۔وہ زہر یہ لوگ باریک در باریک تدابیر سے خادماؤں یا چوہڑیوں کے ذریعہ سے لوگوں کے گھروں میں دفن کرا دیتے ہیں۔آخر کار ان کے اثر سے لوگ بیمار ہو جاتے ہیں۔پھر ان کے چھوڑے ہوئے لوگ مرد اور عورتیں ان بیماروں کو کہتے ہیں کہ کسی نے تم پر جادو کیا ہے۔کسی نے تم پر سحر کیا ہے۔لہذا اس کا علاج فلاں شخص کے پاس ہے۔آخر مرتا کیا نہ کرتا۔لوگ ان کی طرف رجوع کرتے ہیں اور یہ لوگ اپنی مستورات کے ذریعہ سے چونکہ ان کو علم ہوتا ہے کہ وہ زہر کہاں مدفون ہے اور ان کے پاس ایک باقاعدہ فہرست ہوتی ہے۔وہ زہر مدفون نکال کر اُن کو بتاتے ہیں اور اس طرح سے ان بیماریوں کا اعتقاد اور بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے۔پھر ان لوگوں کو چونکہ ان زہروں کے تریاق بھی یاد ہوتے ہیں۔ان کے استعمال سے بعض اوقات تعویذ کے رنگ میں لکھ کر پِلوانے سے یا کسی اور ترکیب سے ان کا استعمال کراتے ہیں اور اُن سے ہزاروں روپے حاصل کرتے ہیں۔اس طرح سے بعض کو کامیاب اور بعض کو ہلاک کرتے ہیں۔ایک تو یہ لوگ ہیں جو لوگوں کو اپنے فائدے کی غرض سے قسما قسم کی ایذائیں پہنچاتے ہیں۔دوسری قسم کے وہ شریر لوگ ہیں جو مومنوں کے کاروبار میں اپنی بد تدابیر سے روک اور حرج پیدا کرتے ہیں اور اس طرح سے پھر مومنوں کی کامیابی میں مشکلات پیدا ہو جاتے ہیں۔مگر آخر کار وہ ناکام رہ جاتے ہیں۔اور مومنین کا گروہ مظفر و منصور اور بامراد ہو جاتا ہے۔