حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 568
ساتھ ہو لیا مگر نہیں معلوم کہ کہا لئے جاتا ہے اور کیا کام ہے۔اس طرح بے علمی میں وہ مجھے ایک مسجد میں لے گیا۔جہاں بہت سے لوگ جمع تھے۔قرائن سے مجھے معلوم ہوا کہ یہ کسی مباحثہ کی تیاری ہے۔میری چونکہ نمازِ عشاء باقی تھی۔مَیں نے اُن سے کہا کہ مجھے نماز پڑھ لینے دو۔یہ مجھے ایک موقعہ مل گیا کہ مَیں دعا کر لوں۔خدا کی قدرت اس وقت مَیں نے اس سورۃ کو بطور دعا پڑھا اور باریک در باریک رنگ میں اس دُعا کو وسیع کر دیا اور دعا کی کہ اے خدائے قادر و تونا تیرا نام ہے۔میں ظلمات میں ہوں۔میری تمام ظلمتیں دور کر دے اور مجھے ایک نور عطا کر کہ جس سے مَیں ہر ایک ظلمت کے شر سے تیری پناہ میں آجاؤں۔تو مجھے ہر امر میں ایک حجت نیّرہ اور برہان قاطع اور فرقان عطا فرما۔میں اگر اندھیروں میں ہوں اور کوئی علم مجھ میں نہیں ہے تو تُو ان ظلمات کو مجھ سے دور کر کے وہ علوم مجھے عطا فرما اور اگر مَیں ایک دانے یا گٹھلی کی طرح کمزور اور ردّی چیز ہوں تو تُو مجھے اپنے قبضۂ قدرت اور ربوبیت میں لے کر اپنی قدرت کا کرشمہ دکھا۔غرض اس وقت مَیں نے اس رنگ میں دعا کی اور اس کو وسیع کیا جنتا کہ کر سکتا تھا۔بعدہٗ میں نماز سے فارغ ہو کر ان لوگوں کی طرف مخاطب ہوا۔خدا کی قدرت کہ اس وقت جو مولوی میرے ساتھ مباحثہ کرنے کے واسطے تیار کیا گیا تھا۔وہ بکاری لیکر میرے سامنے بڑے ادب سے شاگردوں کی طرح بیٹھ گیا اور کہا۔یہ مجھے آپ پڑھ دیں۔وہ صلح حدیبیہ کی ایک حدیث تھی۔حضرت مرزا صاحب کے متعلق اس میں کوئی ذکر نہ تھا۔لوگ حیران تھے اور مَیں خدا تعالیٰ کے تصرّف اور کاملہ قدرت پر خدا کے جلال کا خیال کرتا تھا۔آخر لوگوں نے اس سے کہا کہ یہاں تو مباحثہ کے واسطے ہم لائے تھے۔تم ان سے پڑھنے بیٹھ گئے ہو۔اگر پڑھنا ہی مقصود ہے تو ہم مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کر دیتے۔ان کے ساتھ جمّوں چلے جاو اور روٹی بھی مل جایا کریگی۔وہی شخص ایک بار پھر مجھے ملا اور کہا کہ مَیں اپنی خطا معاف کرانے آیا ہوں کہ مَیں نے کیوں آپ کی بے ادبی کی۔مَیں حیران تھا کہ اس نے میری کیا بے ادبی کی۔حالانکہ اس وقت بھی اس نے میری کوئی بے ادبی نہ کی تھی۔غرض یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ بڑا قادر خدا ہے اور اس کے تصرّفات بہت یقینی ہیں۔اس وقت تم لوگوں کے سامنے کایک زندہ نمونہ ربّ الفلق کے ثبوت میں کھڑا ہے۔اپنے ایمان کو تازہ کرو اور یقین جانو کہ اﷲ تعالیٰ سچی تڑپ اور دردِ دل کی دُعا کو ہرگز ہرگز ضائع نہیں کرتا۔ مخلوق الہٰی میں بعض چیزیں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ بعض اوقات انسان کے واسطے مضر ہو جاتی ہیں