حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 567 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 567

بھی آوازیں دینے لگے۔بعض خوش الحان آنیوالی صبح کی کوشی میں اپنی پیاری راگنیاں گانے لگے۔غرض انسان حیوان، چرند، پرند، سب پر خود بخود ایک قسم کا اثر ہو جاتا ہے اور جوں جوں روشنی زور پکڑتی جاتی ہے۔تُوں تُوں سب ہوش میں آجاتے ہیں۔گلی ، کوچے، بازار ، دکانیں، جنگل، ویرانے سب جو کہ رات کو بھیانک اور سُنسان پڑے تھے۔ان میں چہل پہل اور رونق شروع ہو جاتی ہے۔گویا یہ بھی ایک قسم کی قیامت اور حشر کا نظارہ ہوتا ہے۔خد تعالیٰ فرماتا ہے کہ فالق الاصباح مَیں ہوں۔حَبّ، گیہوں، جَو، چاول وغیرہ اناج کے دانوں کو کہتے ہیں۔دیکھو کسان لوگ بھی کس طرح سے اپنے گھروں میں سے نکال کر باہر جنگوں اور زمین میں پھینک اتے ہیں۔وہاں ان کو اندھیرے اور گرمی میں ایک کیڑا لگ جاتا ہے اور دانے کو مٹی کر دیتا ہے اور پھر وہ نشوونما پاتا۔پھیلتا پھولتا ہے اور کس طرح ایک ایک دانہ کا ہزار در ہزار بن جاتا ہے۔اسی طرح ایک گِٹک(گُٹھلی) کیسی ردّی اور ناکارہ چیز جانی گئی ہے۔لوگ آم کارس چُوس لیتے ہیں۔گٹھلی پھینک دیتے ہیں، عام طور سے غور کر کے دیکھ لو کہ گٹھلی کو ایک ردّی اور بے فائدہ چیز جانا گیا ہے۔مختلف پھلوں میں جو چیز کھانے کے قابل ہوتی ہے وہ کھائی جاتی ہے اور گٹھلی پھینک دی جاتی ہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے میں فالق الحبّ والنّوٰی ( الانعام: ۹۶) اس چیز کو جسے تم لوگ ایک ردّی چیز سمجھ کر پھینک دیتے ہو اس سے کیسے کیسے درخت پیدا کرتا ہوں کہ انسان حیوان چرند پرند سب اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ان کے سائے میں آرام پاتے ہیں۔ان کے پھلوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔میوے۔شربت۔غذائیں۔دوائیں اور مقوّی اشیاء خوردنی ان سے مہیا ہوتی ہیں۔ان کے پتّوں اور ان کی لکڑی سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔گٹھلی کیسی ایک حقیر اور ذلیل چیز ہوتی ہے مگر جب وہ خدائی تصرّف میں آ کر خدا کی ربوبیت کے نیچے آ جاتی ہے تو اس سے کیا کا کیا بن جاتا ہے۔غرض اس چھوٹی سی سورۃمیں اﷲ تعالیٰ نے لفظ فَلَق کے نیچے باریک در باریک حکمتیں رکھی ہیں اور انسان کو ترقی کی راہ بتائی ہے کہ دیکھو جب کوئی چیز میرے قبضۂ قدرت اور ربوبیت کے ماتحت آ جاتی ہے تو پھر وہ کس طرح ادنیٰ اور ارذل حالت سے اعلیٰ اور اعلیٰ بن جاتی ہے۔پس انسان کو لازم ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی ان صفات کو مدّ نظر رکھ کر اور اس کی کامل قدرت کا یقین کر کے اور اس کے اسماء اور صفات کاملہ کو پیش نظر رکھ کر اس سے دعا کرے تو اﷲتعالیٰ ضرور اسے بڑھاتا اور ترقی دیتا ہے۔مجھے ایک دفعہ ایک نہایت مشکل امر کے واسطے اس دعا سے کام لینے سے کامیابی نصیب ہوئی تھی۔ایک دفعہ کا ذکر ہے۔کہ مَیں لاہور گیا۔میرے آشنا نے مجھے ایک جگہ لے جانے کے واسطے کہا اور مَیں اس کے