حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 566
سُوْرَۃَ الْفَلَقِ مَدَ نِیَّۃُ ۲ تا ۶۔۔۔ ۔۔۔چار قُل جو نماز میں اور نماز کے بعد پڑھے جاتے ہیں اُن میں سے یہ تیسرا قُل ہے۔قرآن شریف میں فَلَق ؔکا لفظ تین طرح پر استعمال ہوا ہے۔فَالِقُ الْاِصْبَاحِ۔فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰی۔پس خدا فَالِقُ الْاِصْبَاحِ۔فَالِقُ الْحَبِّ اور فَالِقُ النَّوٰی ہے۔دیکھو رات کے وقت خلقت کیسی ظلمت اور غفلت میں ہوتی ہے۔بجز موذی جانوروں کے عام طور سے چرند۔پرند بھی اس وقت آرام اور ایک طرح کی غفلت میں ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے تاکیدی حکم دیا ہے کہ رات کے وقت گھروں کے دروازے بند کر لیا کرو۔کھانے پینے کے برتنوں کو ڈھانک رکھا کرو۔خصوصًا جب اندھیرے کی ابتداء ہو اور بچوں کو ایسے اوقات میں باہر نہ جانے دو۔کیونکہ وہ وقت شیاطین کے زور کا ہوتا ہے۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے فرمان کی تصدیق جو کہ آج سے تیرہ سو برس پیشتر ایک اُمّی بیابانِ عرب کے ریگستانوں کے رہنے والے کے منہ سے نکلا تھا آج اس روشنی اور علمی ترقی کے زمانہ میں بھی نہایت باریک در باریک محنتوں اور کوششوں کی تحقیقات کے بعد بھی ہو رہی ہے۔جو کچھ آپ نے آج سے تیرہ سور برس پیشتر فرمایا تھا۔آج بڑی سر زنی اور ہزار کوشش کے بعد کوئی سچا علم یا سائنس اسے جُھوٹا نہیں کر سکا۔اس نئی تحقیقات سے جو کچھ ثابت ہو ا ہے وہ بھی یہی ہے کہ کل موذی اجرام اندھیرے میں اور خصوصًا ابتداء اندھیرے میں جوش مارتے ہیں۔مگر لوگ بباعث غفلت ان امور کی قدر نہیں کرتے۔رات کی ظلمت میں عاشق اور معشوق۔قیدی اور قید کنندہ۔بادشاہ اور فقیر۔ظالم اور مظلوم سب ایک رنگ میں ہوتے ہیں اور سب پر غفلت طاری ہوتی ہے۔ادھر صبح ہوئی اور جانور بھی پھڑپھڑانے لگے۔مُرغے