حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 546 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 546

کوئی ہزار ناک رگذے اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔غرض اس قسم کے الفاظ بولتی ہوئی وہ آنحضرت ؐ کی طرف آئی۔آگے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس حضرت ابوبکرؓ بیٹھے ہوئے تھے۔صدیق کو خوف ہوا کہ یہ شریر عورت ہے اور بے ڈھب طور پر غصّہ میں ہے۔کچھ اذیت نہ دے۔مگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم تشفی رکھو وہ مجھے نہ دیکھ سکے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اس کی نظر حضرت ابوبکرؓ پر پڑی اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو اس نے نہ دیکھا اور حضرت ابوبکرؓ سے پوچھنے لگی۔کہ مجھے خبر لگی ہے کہ تیرے دوست نے میری ہجو کی ہے۔صدیق اکبرؓ نے فرمایا۔نہیں۔اس نے تیری ہجو نہیں کی ( ہجو سے مراد شاعرانہ ہجو ہے جو شاعر لوگ کسی دشمن کی کیا کرتے ہیں) اور حضرت صدیقؓ نے سچ کہا۔سورۃ تَبَّتْ تو کلامِ خدائے علیم و حکیم ہے۔نہ کہ کلام محمد صلی اﷲ علیہ وسلم۔یہ سُن کر وہ واپس چلی گئی۔اور کہتی تھی کہ قریش جانتے ہیں کہ میں تو ان کے سردار کی بیٹی ہوں۔بھلا میری ہجو کس طرح کوئی کر سکتا ہے۔: اس کی گردن میں بٹی ہوئی رسّی ہے۔: اس کی گردن میں جِیْد بمعنے گردن جَبْلٌ: رسّی مَسَد: بٹی ہوئی۔کسی قسم کی بٹی ہوئی رسی۔پوست کھجور کی ہو یا چمڑے کی ہو یا لوہے کی ہو غرض بٹی ہوئی ہو۔ہر قسم کی بٹی ہوئی رسی کومَسَدٌکہتے ہیں۔یہ اُس عورت کی صورت ظاہری کا نقشہ ہے جبکہ وہ جنگل سے کانٹے وغیرہ اکٹھے کر کے لاتی۔تاکہ حضرت کی راہ میں بچھا دے تو اُن کا گٹھا رسّی سے باندھ کر پشت پر رکھتی۔اور رسّی اس کی گردن میں سے ہو کر اس کو پکڑے ہوئے ہوتی۔وہی کانٹے اور وہی رسیاں بالآخر اس کے واسطے ہلاکت کا موجب ہوئیں اور جہنم کی زنجیر اس کے گلے میں پڑی۔جیسا کہ لیکھرام اس بد زبانی کے ساتھ حضرت رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے حق میں طَعن کی چُھری چلاتا تھا۔وہ جُھری ظاہری شکل اخیتار کر کے اس کے پیٹ میں بھونکی گئی۔اور جس طعن کے ساتھ شریر لوگ مسیح موعودؐ کے حق میں بد زبانی کرتے تھے۔وہی طعن طاعون کی شکل اخیتار کر کے ان کے گلے کا ہار ہوا۔لکھا ہے کہ ایک دفعہ یہ عورت اسی طرح لکڑیوں کا بڑا گٹھا اٹھا کر جنگل سے لاتی تھی۔راستہ میں ایک پتھر پر گٹھاٹکا کر اور پُشت لگا کر آرام لینے کے واسطے ٹھیر گئی تو وہی گٹھا پتھر سے نیچے کھسک کر لٹکنے لگا۔اس کے بوجھ سے گردن کی رسّی سخت ہو کر اسے جہنم واصل کر گئی۔ایسی بدکاروں کا یہی انجام ہوتا ہے۔خواہ وہ اپنے ملک اور قوم میں معزز ہی ہوں مگر اﷲ تعالیٰ کے رسول کی عداوت