حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 545
کے خاوند کا نام ابولہب اور اس کا نام حَمَّالَۃ الْحَطَبْ ایک عجیب صفت ہے۔جو اپنے اندر حقیقی اور لطیف معانی رکھتے ہیں۔اس کے خاوند کی عادت تھی کہ لوگوں کو آنحضرتؐ کے خلاف جنگ و جدال پر آمادہ کرتا رہتا تھا۔لہب سے مراد شعلۂ آتشِ جنگ ہے۔ابولہب وہ شخص ہے جو جنگ پر لوگوں کو برانگیختہ کرتا ہے۔حَمَّالَۃ الْحَطَبْ لکڑیوں کے اٹھانے والی وہ ہے جو اس شعلہ کو بھڑکانے کے واسطے اس میں ایندھن ڈالتی رہتی ہے۔اس عورت کی عادت تھی کہ ہر جگہ جھوٹی باتیں بنا کر آنحضرت کے برخلاف مخالفت کی آگ کو بھڑکاتی رہتی تھی۔سخن چینی کے ذریعہ سے مخالفت کی آگ کا بھڑکانا اس کا پیشہ تھا۔اور اسی آگ میں وہ خود بھی بمعہ اپنے خاوند کے ہلاک ہوئی۔شیخ سعدی علیہ الرحمۃ نے کیا خوب فرمایا ہے۔میاں دوکس جنگ چوں آتش است سخن چین بدبخت ہَیْزُم کش است کنند ایں و آں خوش و گربا رہ دل ولے اندر میاں کور بخت و خجل میاں دوکس آتش افروختن نہ عقل است خود درمیاں میاں سوختن بخاری شریف میں آیا ہے۔قَال مجاھد حَمَّالَۃَ الحَطَبِ تَمْشِیْ بِالنَّمِیْمَۃِ۔حَمَّالَۃَ الْحَطَبْوہ ہے جو چغل خوری کرتی پھرتی ہے۔کہتے ہیں۔اس کی عادت تھی کہ گھر میں جلانے کے واسطے لکڑیاں خود جنگل میں جا کر چُنتی تھی اور اکٹھی کر کے خود اٹھا کر لاتی تھی۔اس واسطے بھی اس کا نام حَمَّالَۃ الْحَطَبْ تھااور آنحضرتؐ کے ساتھ ایسی دشمنی رکھتی تھی کہ جنگل سے کانٹے اور خس و خاشاک اکٹھے کر کے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے دروازے پر آپؐکے راستہ میں بچھا دیتی تھی۔تاکہ آپؐ کو تکلیف پہنچے اور رات کو جب آپؐ نماز کے واسطے باہر جائیں تو آپؐ کو کانٹوں کے سبب تکلیف ہو۔لکھا ہے کہ جب یہ سورۃ نازل ہوئی اور اس کو خبر لگی کہ میرے اور میرے خاوند کے حق میں اس قسم کے الفاظ آنحضرتؐ نے سانئے ہیں۔تو بڑی شوخی اور بے باکی کے ساتھ ایک رسّی ہاتھ میں لئے آنحضرت کے پاس آئی اور اس طرح کہتی آتی تھی مُذَمَّمًا اَبَیْنَا دِیْنَہٗ قَلَیْنَا وَ اَمْرَہٗ عَصَیْنَا۔ہم نے ایک مذمّت کئے گئے کا انکار کیا اور اس کے دین کو ہم نے ناپسند کیا اور اس کے حکم کی ہم نے نافرمانی کی۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو دشمن نابکار بجائے محمدؐ کے مذقّم کہا کرتے تھے۔محمدؐ کے معنے ہیں تعریف کیا گیا۔اور مذمّم کے معنے ہیں مذمّت کیا گیا۔نابکار دشمن ہمیشہ اس قسم کی شرارتیں کیا کرتے تھے۔جیسا کہ آجکل کے بیوقوف مخالف لفظ قادیانی کو کادیانی لکھ کر ایک احمقانہ خوشی اپنے واسطے پیدا کر لیتے ہیں مگر ایسی باتوں سے کیا ہو سکتا تھا۔جس کو خدا تعالیٰ عزّت دینا چاہتا ہے۔اس کو ذلیل کرنے کے واسطے