حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 544 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 544

اس آیت شریف میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہلی اور دوسری آیت تو صیغہ ماضی میں بیان کی گئی ہیں۔کہ وہ ہلاک ہو گیا اور اس آیت شریف میں صیغہ استقبال استعمال کیا گیا ہے۔کہ وہ آگ میں داخل ہو گا۔اس میں کیا حکمت ہے۔سو واضح ہو کہ دراصل یہ ایک پیشگوئی ہے۔اور جس وقت سنائی گئی۔اس وقت ابولہب چنگا بھلا تھا۔اور بڑے زور میں تھا۔اور قوم میں معزّز تھا اور آنحضرت ایک بے کسی اور بے بسی کی حالت میں تھے۔لیکن اﷲ کے رسول کی تکالیف کو دیکھ کر آسمان پر یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ ان تکالیف کا اب خاتمہ ہو جاوے اور ابولہب ہلاک ہو جاوے۔چونکہ کوئی کام زمین پر نہیں ہوتا جب تک کہ آسمان پر نہ ہو لے۔اس واسطے جس امر کا فیصلہ آسمان پر ہو جاوے۔اُس کو ہو گیا ہوا بتایا جاتا ہے۔کیونکہ وہ خدا کا حکم ہے اور یقینی پیشگوئی ہے۔اور حتمی وعدہ ہے۔اس واسطے پہلے سے منا دی کی گئی کہ ابولہب ہلاک ہو گیا۔حضرت ابو رافع فرماتے ہیں کہ میں عباس بن عبدالمطلب کا غلام تھا اور ہمارے گھر میں اسلام داخل ہو چکا تھا کیونکہ حصرت عباسؓ مسلمان ہو چکے تھے۔اور اُم فضل بھی اسلام میں داخل ہو گئی تھی۔اور مَیں بھی مسلمان ہو گیا تھا لیکن ہم لوگ قوم سے ڈرتے تھے۔اور عام طور پر اپنے اسلام کو ظاہر نہ کرتے تھے کہ زمانہ ابتدائی تھا اور لوگ سخت دُکھ دیتے تھے۔جنگِ بدر کے موقعہ پر ابولہب خود نہ گیا تھا۔بلکہ ۱؎ اپنی جگہ دو آدمیوں کو بھیج دیا تھا۔جب خبر آئی کہ جنگِ بدر میں مسلمانوں کی فتح ہوئی تو ہمیں قوت پیدا ہوئی اور ہم بہت خوش ہوئے۔میں اور امّ فضل ایک جگہ بیٹھے تھے۔اوپر سے ابولہب آیا اور وہ بھی بیٹھ گیا۔اتنے میں ابوسفیان جنگ سے واپس آیا۔ابولہب نے اس سے جنگ کی کیفیت پوچھی۔ابوسفیان نے منجملہ اور باتوں کے بیان کی کہ عجیب بات ہے کہ ہمارے مقابلہ میں کچھ گورے رنگ کے سوار بھی تھے۔جو آسمان اور زمین کے درمیان میں تھے۔مَیں نے کہا وہ خدا کے فرشتے تھے۔میرا یہ کہنا تھا کہ ابولہب اٹھا اور مجھے مارنے لگا لیکن امّ فضل نے مجھے چھڑایا اور ابولہب کو مارا اور لعنت ملامت کی اس کے سات دن بعد اس کے ہاتھ پر ایک پھوڑا نکلا اور اسی سے مر گیا۔: اور اس کی جو رُو اٹھانیوالی لکڑیوں کی۔ابولہب کی جوڑو کا نام امّ جمیل تھا۔حرب کی بیٹی تھی اور ابوسفیاں کی بہن۔آنحضرتؐ کے ساتھ عداوت اور بُغص میں اپنے خاوند کی طرح تھی۔ہمیشہ آپؐ کو دُکھ دینے کے درپے رہتی تھی۔اس آیت شریف میں ۱؎ ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۵؍ دسمبر ۱۹۱۲ء