حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 543
تمام کر سکتا تھا۔جو مسلمان ہو جاتا۔وہ بھی اپنے آپ کو خفیہ رکھتا۔غرض ایسے وقت میں جبکہ دنیادار نظربہ ظاہر حالات کر کے یہ خیال کرتے تھے کہ یہ سلسلہ ایسا کمزور ہے کہ آج ٹوٹا یا کل۔ایسے وقت میں یہ پیشگوئی کی گئی کہ خدا تعالیٰ ہم کو کامیاب کرے گا اور یہ اشد دشمن ابولہب جیسا قوم کا سردار نامرادی کے گذھے میں گر جائے گا۔یہ خدا تعالیٰ کے عجائبات کے نمونے ہیں۔جن کے ذریعہ سے وہ اپنے بندوں کی سچائی دنیا پر روشن کر دیتا ہے۔اور وہ دکھا دیتا ہے کہ بے شک یہ اس کی طرف سے مبعوث ہے ورنہ ایک انسان عاجز کا یہ حوصلہ نہیں کہ ایسی بے کسی اور بے بسی کے وقت میں اتنا بڑا دعوٰی کرے خدا تعالیٰ ظاہر میں لوگوں کو دکھائی نہیں دیتا۔پر وہ اپنے عجائب در عجائب کاموں سے پہچانا جاتا ہے جس زمانہ میں حضرت مرزا صاحب قادیان کے گاؤں میں ایک گوشہ نشین شخص تھے۔اور ایک مہمان بھی کبھی آپ کے پاس نہ آتا تھا اور رات دن تنہائی میں خدا کی عبادت کرتے ہوئے گزرتی تھی۔اس وقت خدا نے یہ الہام کیا کہ تیرے پاس دُور دُور سے لوگ آئیں گے اور دُور دُور سے تحائف اور ہدایا بھی تیرے لئے لائیں گے۔اُس وقت ممکن ہے کہ خود مُلہم کو بھی اس پر تعجّب ہوا ہو۔کہ مجھے تو نہ کوئی جانتا ہے اور نہ میں چاہتا ہوں کہ مجھے کوئی جانے اور مَیں تو اس کو کو دوست رکھتا ہوں کہ خلوت میں بیٹھا رہوں اور اپنے خدا کی عبادت میں مصروف رہوں۔یہ کیا بات اہے۔کہ دُور دُور سے لوگ آئیں گے اور تحفے تحائف بھی لائیں گے مگر قدرتِ خداوندی اسی طرح سے ہے۔کہ جو دنیا کو خدا کے واسطے لات مارتا ہے دنیا اسی کی خادم بنائی جاتی ہے۔اور جو اس کے پیچھے دوڑتا ہے۔وہ اس کے آگے بھاگتی ہے اور اس کو ہمیشہ حسرت اور ناکامی کی حالت میں رکھتی ہے۔سَیَصْلٰی نَارًا: جلد داخل ہو گا آگ میں۔زُود باشد کہ در آید بآتش۔عنقریب آگ میں ڈالا جائے گا۔نار سے مراد دو طرح کی آگ ہے۔اوّل اسی دنیا میں نامرادی اور ناکامی کے ساتھ ہلاکت کی آگ کہ باوجود رات دن کی جان توڑ کوششوں کے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا سلسلہ دن بدن ترقی پکڑتا گیا اور وہ ترقی ہر وقت اس کے دل کو ایک سوزش اور جلن میں ڈالتی تھی اور آکر اس کی موت بھی طاعون سے ہوئی جو ایک عذاب کی موت ہے اور اس دنیا کے عذاب کی موت ہے اور اس دنیا کے عذاب کے ساتھ آخرت کے عذاب کی جو پیشگوئی کی گئی ہے اس کا سچّا ہونا امر اوّل کے پورا ہو جانے سے ثابت ہوتا ہے۔ذَاتَ لَھَبٍ: شعلوں والی۔وہ آگ جس سے شعلے نکلتے ہوں۔اس جگہ لہب کے لفظ میں وہ خوبی ہے کہ خود اس کا نام بھی ابولہب تھا جو کہ اس نے تکبّر اور غرور کے سبب اپنے لئے پسند کیا ہوا تھا۔