حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 536
اس لئے مومن کو چاہیئے کہ خدا کی حمد اور تسبیح کرتا رہے اور اس کی حفاظت طلب کرتا رہے جیسے ایمان ہر نیکی کے مجموعہ کا نام ہے۔اسی طرہ پر بُرائی کا مجموعہ کفر کہلاتا ہے۔ان کے ادنیٰ اور وسط اور اعلیٰ تین درجے ہیں۔پس امید، بیم، رنج وراحت، عسر و یسر میں قدم آگے بڑھاؤ اور اس سے حفاظت طلب کرو۔عور کرو۔حفاظت طلب کرنے کا حکم اس عظیم الشان کو ہوتا ہے جو خاتم الانبیاء ، اصفی الاصفیاء سیّد ولدِ ادم ہے صلی اﷲ علیہ وسلم۔تو پھر اور کون ہے جو طلبِ حفاظت سے غنی ہو سکتا ہے مایوس اور ناامّید مَت ہو۔ہر کمزوری ، غلطی ، بغاوت کے لئے دعا سے کام لو۔دعا سے مت تھکو۔یہ دھوکا مت کھاؤ۔جو بعض ناعاقبت اندیش کہتے ہیں۔کہ انسان ایک کمزور ہستی ہے۔خدا اس کو سزا دیکر کیا کریگا؟ انہوں نے رحمت کے بیان میں غُلو کیا ہے۔کیا وہ اس نطارہ کو نہیں دیکھتے کہ یہاں بعض کو رنج اور تکلیف پہنچتی ہے۔پس بعد الموت عزاب نہ پہنچنے کی ان کے پاس کیا دلیل ہو سکتی ہے۔یہ غلط راہ ہے جو انسان کو کمزور اورسُست بنا دیتی ہے۔بعض نے یاس کو حد درجہ تک پہنچا دیا ہے کہ بدیاں حد سے بڑھ گئی ہیں۔اب بچنے کی کوئی راہ نہیں ہے۔استغٰار اس سے زیادہ نہیں کہ زہر کھا کر کلّی کر لی۔یہ بھی سخت علطی ہے۔استغفار انبیاء کا اجماعی مسئلہ ہے۔اس میں گناہ کے زہر کا تریاق ہے۔پس استغفار کو کسی حال میں مت چھوڑ و۔پھر آخر مَیں کہات اہوں کہ نبی کریم سے بڑھ کر کون ہے۔اَخْشٰی لِلّٰہ۔اَتْقٰی لِلّٰہِ اَعْلَمُ بِاللّٰہِ انسان تھا۔صلی اﷲ علیہ وسلم۔پس جب اس کو استغفار کا حکم ہوتا ہے تو دوسرے لا اُبالی کہنے والے کیونکر ہو سکتے ہیں۔پس جنہوں نے اب تک اس وقت کے امام راست باز کے ماننے کے لئے قدم نہیں اٹھایا۔اور دُبْدَھَا میں ہیں۔وہ استغفار سے کام لیں کہ ان پر سچائی کی راہ کُھلے اور جنہوں نے خدا کے فضل سے اسے مان لیا ہے وہ استغٰار کریں تاکہ آئندہ کے لئے معاصی اور کسی لغزش کے ارتکاب سے بچیں اور حفاظتِ الہٰی کے نیچے رہیں۔(الحکم ۷؍فروری ۱۹۰۲ء صفحہ ۶۔۷) نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ تین قسم کے لوگ ہوئے تھے۔ایک وہ جو سابق اوّل من المہاجرین تھے۔اور دوسرے وہ جو فتہ کے بعد ملے۔اور تیسرے اس وقت ہو کے مصداق تھے۔اسی طرح جو لوگ عظمت و جبروت الہٰی کو پہلے نہیں دیکھ سکتے۔آخر ان کو داخل ہونا پڑتا ہے۔اور اپنی بَودِی طبیعت سے اپنے سے زبردست کے سامنے مامور من اﷲ کو ماننا پڑتا ہے۔اور بلکہ آخر یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍوَّ ھممْ صَاغِرُونَ ( التوبہ : ۲۹) کا مصداق ہو کر رہنا پڑتا ہے۔(الحکم ۳۱؍جنوری ۱۹۰۲ء صفحہ۵)