حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 535 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 535

کیا جاتا ہے۔اس سورہ شریف میں نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے انجام کو ظاہر کر کے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ۔اﷲ کی تسبیح کرو، اس کی ستائش اور حمد کرو، اور اس سے حفاظت طلب کرو۔استغفار یا حفاظتِ الہٰی طلب کرنا ایک عظیم الشان سرّہے۔انسان کی عقل تمام ذاتِ عالم کی محیط نہیں ہو سکتی۔اگر وہ موجود ضروریات کو سمجھ بھی لے تو آئندہ کے لئے کوئی فتوٰی نہیں دے سکتی۔اس وقت ہم کپڑے پہنے کھڑے ہیں۔لیکن اگر اﷲ تعالیٰ ہی کی حفاظت اور فضل کے نیچے نہ ہوں اور محرقہ ہو جاوے تو یہ کپڑے جو اس وقت آرام دہ اور خوش آئندہ معلوم ہوتے ہیں ناگوار خاطر ہو کر موذی اور مخالف طبع ہو جاویں اور وبالِ جان سمجھ کر ان کو اتار دیا جاوے۔پس انسان کے علم کی تو یہ حد اور غایت ہے۔ایک وقت ایک چیز کو ضروری سمجھتا ہے اور دوسرے وقت اُسے غیر ضروری قرار دیتا ہے۔اگر اے یہ علم ہو کہ سال کے بعد اسے کیا ضرورت ہو گی؟ مرنے کے بعد کیا ضرورتیں پیش آئیں گی تو البتہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ بہت کچھ انتطام کرے۔لیکن جب قدم قدم پر لا علمی کے باعث ٹھوکریں کھاتا ہے۔پھر حفاظتِ الہٰی کی ضرورت نہ سمجھنا کیسی نادانی اور حماقت ہے۔یہ صرف علم ہی تک بات محدود نہیں رہتی۔دوسرا مرحلہ تصرفات عالم کا ہے۔وہ اس کو مطلق نہیں۔ایک ذرّہ پر اُسے تصرف و اختیار نہیں۔غرض ایک بے علمی اور بے بسی تو ساتھ ہے۔پھر بدعملیاں ظلمت کا موجب ہو جاتی ہیں۔انسان جب اوّلاًگناہ کرتا ہے تو ابتداء میں دلیر نہیں ہوتا ہے پھر وہ امر بڑھ جاتا ہے۔اور رَیْنَ کہلاتا ہے اس کے بعد مہر لگ جاتی ہے۔یہ چھاپا مضبوط ہو جاتا ہے۔قفل لگ جاتا ہے۔پھر یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ بدی سے پیار اور نیکی سے نفرت کرتا ہے خیر کی تحریک ہی قلب سے اُٹھ جاتی ہے اس کا ظہور ایسا ہوتا ہے کہ خیروبرکت والی جانوں سے نفرت ہو جاتی ہے۔یا تو ان کے حضور آنے ہی کا موقعہ نہیں ملتا۔یا موقعہ تو ملتا ہے لیکن انتفاع کی توفیق نہیں پاتا۔رفتہ رفتہ اﷲ سے بُعد، ملائکہ سے دوری اور پھر وہ لوگ جن کا تعلق ملائکہ سے ہوتا ہے اُن سے بُعد ہو کر کٹ جاتا ہے۔اس لئے ہر ایک عقلمند کا فرص ہے کہ وہ توبہ کرے اور غور کرے۔ہم نے بہت سے مریض ایسے دیکھے ہیں جن کو میٹھا تلخ معلوم دیتا ہے اور تلخ چیزیں لذیذ معلوم ہوتی ہیں۔کسی نے مجھ سے مُلَذَّذْ نسخہ مانگا۔مَیں نے اسے مصبّر، کچلہ، شہد ملا کر دیا۔اس نے کہا کہ بڑا مُلَذَّدْ ہے۔یہ نتیجہ ہوتا ہے انسان کے معاصی کا۔ان کی بصر اور بصیرت جاتی رہتی ہے۔اور ان کی آنکھیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کے چہروں پر نگاہ کر کے اہلِ بصر انہیں اسی طرہ دیکھتے ہیں جیسے سانپ ،بندر خنزیر کو دیکھتے ہیں۔