حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 534
بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا ( الروم:۴۲) لوگوں کو ان کی بد کرتُوتوں کا مزہ چکھا دیا جاوے۔بہت سی مخلوق اس وقت ایسی ہوتی ہے کہ ان کے عدم اور وجود کو برابر سمجھتی ہے۔اور بہت سے ایسے ہوتے ہیں کہ بالکل غفلت ہی میں ہوتے ہیں۔انہیں کچھ معلوم نہیں ہوتا۔کہ کیا ہو رہا ہے اور کچھ مقابلہ و انکار پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں۔جنہیں اﷲ تعالیٰ اپنی عظمت و جبروت دکھانا چاہتا ہے۔وہ ان لوگوں کے مقابلہ میں جو مال و دولت ، کنبہ اور دوستوں کے لحاظ سے بہت ہی کمزور اور ضعیف ہوتے ہیں۔بڑے بڑے رؤوسا اور اہل تدبیر لوگوں کے مقابلہ میںں ان کی کچھ ہستی ہی نہیں ہوتی۔یہ اس مامور کے ساتھ ہو لیتے ہیں۔ایس کیوں ہوتا ہے۔یعنی ضعفاء سب سے پہلے ماننے والے کیوں ہوتے ہیں؟ اس لئے کہ اگر وہ اہلِ دُول مان لیں۔تو ممکن ہے خود ہی کہہ دیں کہ ہمارے ایمان لانے کا نتیجہ کیا ہوا۔دولت کو دیکھتے ہیں۔املاک پر نگاہ کرتے ہیں۔اپنے اعوان و انصار کو دیکھتے ہیں تو ہر بات میں اپنے آپ کو کمال تک پہنچا ہوا دیکھتے ہیں۔اس لئے خدا کی عظمت و جبروت اور ربوبیت کا ان کو علم نہیں آ سکتا۔لیکن جب ان ضعفاء کو جو دنیوی اور مادی اسباب کے لحاظ سے تباہ ہونے کے قابل ہوں۔عظیم الشان انسان بنا دے اور اُ رؤوسا اور اہلِ دُول کو ان کے سامنے تباہ اور ہلاک کر دے تو اس کی عظمت و جلال کی چمکار صاف نظر آتی ہے۔غرض یہ سرّ ہوتا ہے کہ اوّل ضعفاء ہی ایمان لاتے ہیں۔اس دُبْدَھَا کے وقت جبکہ ہر طرف سے شور ِ مکالفت بلند ہوتا ہے خصوصًا بڑے لوگ سخت مکالفت پر اٹھیسد ہوئے ہوتے ہیں۔کچھ ادمی ہوتے ہیں جن کو اﷲ تعالیٰ اپنے فضل سے چُن لیتا ہے اور وہ اس راست باز کی اطاعت کو نجات کے لئے غنیمت اور مرنے کے بعد قربِ الہٰی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور بہت سے مخالفت کے لئے اُٹھتے ہیں۔جو اپنی مکلفات کو انتہاء تک پہنجاتے ہیں۔یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ کی نصرت اور مدد ا جاتی ہے۔اور زمین سے آسمان سے ، دائیں سے بائیں سے، غرض ہر طرف سے نصرت آتی ہے اور ایک جماعت تیار ہونے لگتی ہے۔اس وقت وہ لوگ جو بالکل غفلت میں ہوتے ہیں۔اور وہ بھی جو پہلے عدم وجود مساوی سمجھتے ہیں آ کر شامل ہونے لگتی ہیں۔وہ لوگ جو سب سے پہلے ضعف و ناتوانی اور مخالفتِ شدیدہ کی حالت میں آخرشریک ہوتے ہیں۔ان کیف نام سابقین، اوّلین، مہاجرین اور انصار رکھا گیا۔مگر ایسے فتوہات اور نصرتوں کے وقت جو ا خرشریک ہوئے۔ان کا نام ناسؔ رکھا ہے۔یاد رکھو جو پودا اﷲتعالیٰ لگاتا ہے اس کی حفاظت بھی فرماتا ہے۔یہاں تک کہ وہ دنیا کو اپنا پھل دینے لگتا ہے۔لیکن جو پودا احکم الحاکمین کے خلاف اس کے منشاء کے موافق نہ ہو۔اس کی خواہ کتنی ہی حفاظت کی جاوے۔وہ آخر خشک ہو کر تباہ ہو جاتا ہے اور ایندھن کی جگہ چلایا جاتا ہے۔پس وہ لوگ بہت ہی خوش قسمت ہیں جن کو عاقبت اندیشی کا فضل عطا