حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 533 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 533

واسطے ہے۔اس واسطے ظِلّی طور پر جب کبھی ضرورت ہو یہ وعدہ پورا ہوتا ہے۔چنانچہ اس زمانہ میں بھی جبکہ اسلام بہت ضعیف ہے۔خدا تعالیٰ نے اپنے ایک فرستادہ کے ذریعہ سے یہ خوشخبری دوبارہ سنائی ہے۔کہ اس کی طرف سے اسلام کے واسطے فتح و نصرت کا وقت پھر آ گیا ہے۔اور لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوں گے اور پھر اسلامیوں میں وہی روحانیت پھونکی جائے گی۔مبارک ہیں وہ جو تکبّر نہ کریں اور خدا کے کام کی عزّت کریں۔تاکہ ان کے واسطے بھی عزّت ہو۔اے خدا ہمارے گناہوں کو بخش اور اپنے وعدوں کو پورا کر۔کہ تو سچّے وعدوں والا ہے۔اسلام کی عزّت کو دنیا میں قائم کر دے اور اسلام کے دشمنوں کی ذلیل اور پست اور ہلاک کر دے خواہ وہ اندرونی ہوں یا بیرونی۔کیونکہ اب تیری قدرت نمائی کا وقت ہے اور تُو بڑی طاقتوں والا خدا ہے۔آمین ثمّ آمین۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۵؍دسمبر ۱۹۱۲ء) یہ ایک مختصر اور چھوٹی سی سورۃ ( النصر۹ قرآن شریف کے آخری حصّہ میں ہے۔مسلمانوں کے بچے علی العموم نمازوں میں اسے پڑھتے ہیں۔اس پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیف کو راضی کرنے اور اسی کی جناب میں قدمِ صدق پیدا کرنے کے لئے اور اپنی عزّت و آبرو کو دنیا و آکرت میں بڑٍانے کے واسطے انسان کو مختلف موقعے ملتے ہیں۔ایک وہ وقت ہوتا ہے کہ جب دنیا میں اندھیر ہوتا ہے۔اور ہر قسم کی غلطیاں اور غلط کاریاں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔خدا کی ذات پر شکوک۔اسماء الہٰیہ میں شبہات۔اور افعال اﷲ سے بے اعتنائی اور مسابقت فی الخیرات میں غفلت پھیل جاتی ہے اور ساری دنیا پر غفلت کی تاریکی چھا جاتی ہے۔اس وقت اﷲ تعالیٰ کی طرف سے اس کا کوئی برگزیدہ بندہ اہلِ دنیا کو خوابِ غفلت سے بیدار کرنے اور اپنے مولیٰ کی عظمت و جبروت دکھانے۔اسماء الہٰیہ و افعال اﷲ سے آگاہی بخشنے کے واسطے آتا ہے تو ایک کمزور انسان تو ساری دنیا کو دیکھتا ہے کہ کس رنگ میں رنگین اور کس دُھن میں لگی ہوئی ہے اور اس مامور کی طرف دیکھتا ہے کہ وہ سب سے الگ اور سب کے خلاف کہتا ہے گُل دنیا کے چال چلن پر اعتراض کرتا ہے۔نہ کسی کے عقائد کی پرواہ کرتا ہے۔نہ اعمال کا لحاظ۔صاف کہتا ہے کہ تم بے ایمان ہو اور نہ صرف تم بلکہ ظَھرَ الْفَسَاہُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ ( الروم:۴۲)سارے دریاؤں جنگلوں،بیابانوں، پہاڑوں اور سمندروں اور جزائر، غرض ہر حصّۂ دنیا پر فساد مچاہوا ہے۔تمہارے عقائد صحیح نہیں، اعمال درست نہیں، علم بودے ہیں، اعمال ناپسند ہیں۔قوٰی اﷲ تعالیٰ سے دمور ہو کر کمزور ہو چکے ہیں۔کیوں؟ بِمَاکَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ (الرّوم:۴۲)تمہاری اپنی ہی کرتُوتوں سے۔پھر کہتا ہے۔دیکھو مَیں ایک ہی شخص ہوں اور اس لئے آیا ہوں کہ لِیُذِیْقَھُمْ