حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 532
اور جو شخص اسلام کے سوائے اور کوئی دین چاہے گا۔وہ ہرگز قبول نہ ہو گا۔تعجب ہے کہ باوجود ایسی صریح آیات کے ہوتے اس زمانہ میں ڈاکٹر عبدالحکیم خان جیسوں کی عقل ایسی ماری گئی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر ایمان لانا اور قرآن شریف پر عمل کرنا کچھ ضروری نہیں۔اور نماز روزہ۔حج۔زکوٰۃ وغیرہ کی پابندی کی کوئی حاجت نہیں۔اور اسلام میں داخل ہونا ایک بے فائدہ امر ہے۔صرف اﷲ کو مان لو کہ وہ ہے اور اچھے اچھے کام کرو جو تمہاری نگاہ میں اچھے ہوں… تو بس نجات پا جاؤ گے۔لفظ دین کے واسطے انور الفاظ بھی قرآن شریف میں آئے ہیں۔جیسا کہ ایمان اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے فَاَخْرَجْنَا مننْ کَانَ فِیْھَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فَمَا وَ جَدْنَا فِیْھَا غَیْرَبَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ( الذاریات:۳۶۔۳۷)ہم نے وقتِ عذاب مومنوں کو وہاں سے نکال دیا اور اس میں مسلمانوں کا صرف ایک ہی گھر ملا۔اور صراطؔ جیسا کہ فرمایا ہے۔صِرَاطِ اﷲِ الَّذِیْ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ( الشورٰیؔ۵۴)اور ایسا ہی دینؔ کے واسطے اور بھی نام ہیں۔جیسا کہ کلمۃُ اﷲ اور نُور اور ھمدٰی اور غُرْونہْ اور حَبْل اور صِبْغَۃَ اﷲاور فِطْرَۃَ اﷲ۔فضائل سورۃ النصر:حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ سب سے آکر جو سورۃ بہ تمام و اکمال اور پوری اتری وہ یہی سورۃ النصر ہے۔اس کے بعد کوئی پوری سورۃ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر نازل نہیں ہوئی۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ یہ سورۃ رُبع قرآن ہے۔یعنی قرآن شریف کی چوتھائی کے برابر ہے۔یہ فضیلت بلحاظ اس شاندار پیشگوئی کے معلوم ہوتی ہے جس پر وہ مشتمل ہے۔اور بلحاظ ان احکامِ تسبیح اور تحمید اور استغفار کے ہے جو کہ انسان کو اپنے کمال تک پہنچانے کے واسطے کمال درجہ کے ہتھیار ہیں۔اسی سورۂ شریف نے کفارِ مکہ کو باوجود ایسی سخت بغاوتوں اور سرکشیوں کے اور اذیّت رسانیوں کے فتح مکّہ کے وقت ہر طرح کے عذاب سے بجا لیا۔اور آنحصرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے خلقِ عظیم کے ساتھ سب کو معاف کر دیا اور فرمایالاتَثْریْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ۔بلکہ ان کے گناہوں کے واسطے خدا تعالیٰ کے حضور میں معافی چاہی۔کیونکہ اَسْتَغْفِرُاﷲ کا لفظ اسی امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آپؐ خدا تعالیٰ کے حضور میں گناہ گاروں کے واسطے شفاعت کریں اور ان کو عذاب میں گرنے سے بچا ویں۔نئی فوجیں: یہ اﷲ تعالیٰ کی فتہ و نصرت کا وعدہ اور قوموں کے فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے کی پیشگوئی جو اس سورۂ شریف میں کی گئی ہے۔اگرچہ اس کے پورا ہونے کا ابتداء آنحصرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوا۔تاہم چونکہ مذہب اسلام ہمیشہ کے