حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 523
نبوّت کی صداقت پر ایک بیّن اور زندہ دلیل ہے کہ آپؐ نے اپنی زندگی میں خدا تعالیٰ کی توحید قائم کرنے میں ایسی کامیابی دیکھی کہ اس کی نظیر پہلے کسی نبی کے حالات میں پائی نہیں جاتی۔بِحَمْدِ رَبِّکَ : ساتھ تعریف پروردگار اپنے کے۔بہ ستائشِ پروردگارِ تُو۔یعنی اپنے رب کی تعریف کر۔کہ اس نے اپنی خاص ربوبیت کے ذریعہ سے تجھے ہر معاملہ میں کامیاب کیا اور فتہ و نصرت عطا کی ہے۔یہ اسی قادر و توانا کا کام ہے۔کہ ایک یتیم کو دنیا کا بادشاہ بنا وے اور ایسی فتہ عطا کرے جس کی نظیر دنیا بھر کی تاریک میں موجود نہ ہو۔وَاسْتَْْفِرْہُ : اور اس سے مغفرت طلب کر۔غَفَر کے معنے ہیں ڈھانکنا۔دبانا۔تمام انبیاء خدا تعالیٰ سے مغفرت مانگا کرتے تھے۔اور مغفرت مانگنے کے یہ معنی ہیں۔کہ انسان چونکہ کمزور ہے۔اس کو معلوم نہیں کہ کونسا کام اس کے واسطے بہتری کا ہے۔اور کون سا نقصان کا کام ہے۔اور تکلیف کا راستہ ہے۔پس مغفرت مانگا کرتے تھے۔اور مغفرت مانگنے کے یہ معنی ہیں۔کہ انسان چونکہ کمزور ہے۔اس کو معلوم نہیں کہ کونسا کام اس کے واسطے بہتری کا ہے۔اور کون سا نقصان کا کام ہے۔اور تکلیف کا راستہ ہے۔پس مغفرت ایک دعا ہے کہ انسان اپنے خدا سے یہ دعا مانگتا ہے کہ وہ اس کے واسطے نیکی کے راہ پر چلنے کے اسباب مہیا کرے۔جن سے وہ بدی سے بچا رہے۔اور کسی طرح کے حرج اور تکلیف میں پڑنے سے محفوظ رہے۔خدا تعالیٰ کے انعام کے حاصل کرنے کے واسطے مغفرت کا طلب کرنا نہایت ضروری ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۱؍نومبر ۱۹۱۲ء) اِنَّہٗ کَانَا تَوّنابًا: تحقیق وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔’’ہر آئینہ خدا ہست برحمت رجوعَ لنندہ‘‘ تو آب کے معنے ہیں۔بہت توبہ کرنے والا۔بہت رجوع کرنے والا۔جبکہ انسان خدا تعالیٰ کی طرف رجوع لاتا ہے تو خدا تعالیٰ اس سے زیادہ اس کی طرف توجہ کرتا ہے۔اسی پر حدیث شریف میں آیا ہے۔کہ اگر انسان چل کر خدا تعالیٰ کی طرف جاوے تو خدا اس کی طرف دوڑ کر جاتا ہے۔اس سورۃ شریف کا ایک نام تو النصرؔ ہے کیونکہ اس میں ایک نصرت کی بشارت ہے اور اس کا نام فتح ؔبھی ہے۔کیونکہ ایک عظیم الشان فتح کی اس میں پیشگوئی درج ہے جس سے اسلامی سلطنت اور فتوحات کی بنیاد رکھی گئی تھی۔یعنی فتح مکّہ۔ان کے علاوہ ایک نام اس سورۃ سورۂ تودیعؔبھی ہے۔کیونکہ جب یہ سورۃ نازل ہوئی تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا۔کہ نُعِیْتُ اِلیَّ اور آپ نے سمجھ لیا ہمارا کام تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔اور اب وقت ا گیا ہے کہ ہم اپنے خدا کے پاس چلے جاویں۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب یہ سورۃ نازل ہوئی اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ جو آپ کا کام تھا۔وہ پورا ہو گیا ہے۔اور اب آپ کو اس دارِفانی کو چھوڑنے کا وقت قریب آ گیا ہے تو آپ نے ظاہر فرمایا کہ اب میں عالمِ باقی میں انتقال کروں گا۔اس بات کو سُن کر جناب فاطمہ رضی اﷲ