حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 522
خدا تعالیٰ کی اس نعمت کے شکر گزار ہوئے اور اپنے مال اس راہ میں خرچ کئے۔تیسری قسم کے وہ لوگ ہیں جن کو طاعون یا زلزلے نے خوفزدہ کر کے اس طرف کھینچا۔پھر بہر حال وہ بھی خوش قسمت ہیں۔کیونکہ پاس شدوں کی فہرست میں ان کا نام درج ہو گیا۔اور فیل شدوں کا نام تو کسی فہرست میں لکھا ہی نہیں جاتا سوائے ان فیل شدوں کے جو اپنے پرچوں میں شرارت کے ساتھ ناجائز باتیں لکھ دیتے ہیں تو کواہ مخواہ ممتحن کو ان کی رپورٹ کرنی پڑتی ہے کہ فلام امیدوار نے اپنے پرچہ میں ایسی شرارت کی ہے۔پس وہ فقط فیل ہی نہیں ہوتے بلکہ آئندہ کے واسطے مدارس سے خارج کئے جاتے ہیں۔اور سخت نامرادی کے گڑھے میں پھینکے جاتے ہیں۔جہاں سوائے رونے اور دانت پیسنے کے اور کچھ حاصل نہیں ہو گا۔: داخل ہوتے ہیں : اﷲ تعالیٰ کے دین میں : فوج در فوج۔پہلے تو کوئی ایک آدھ مسلمان ہوتا تھا۔جبکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مکّہ میں تشریف فرما تھاے۔بعد میں جب ہجرت کر کے مدینہ منورّہ میں سکونت اختیار کی تو زیادہ تعداد ہونے لگی۔لیکن پھر بھی ترقی زور کے ساتھ نہ تھی۔یہاں تک کہ جب مکّہ فتح ہو گیا تو گروہوں کے گروہ اور جماعتوں کی جماعتیں دین الہٰی میں داخل ہونے لگیں۔کیونکہ تمام مشکلات درمیان میں سے اٹھ گئی تھیں اور حجاب دور ہو چکے تھے۔اور اکابر مجرم ہلاک ہو چکے تھے۔: پس تسبیح کر۔پس پاکی بیان کر۔اَلتَسْبِیْحُ ھُوَ التَّطْھِیْرُ : تسبیح پاکیزگی اور طہارت کو کہتے ہیں۔بعض کا خیال ہے کہ اس سے مراد خانہ کعبہ کی تطہیر ہے۔کیونکہ کفّار نے اس میں بُت رکھے ہوئے تھے۔اور فتح مکّہ کا یہ نتیجہ تھا کہ تمام بُت وہاں سے نکال دئے گئے اور اس کے گھر کو خدا تعالیٰ کی اس عبادت کے واسطے خاص کیا گیا۔جس کے لئے حصرت ابراہیمؑ اور حضرت اسمٰعیلؑ نے اپنے کاندھوں پر انیٹیں اٹھا کر اس کی بناء کی تھی۔خدا تعالیٰ کے برگزید ے جب اپنے رب کے حضور میں کوئی اخلاص کا کام کرتے ہیں۔تو خدا تعالیٰ اس کو ہرگز ضائع نہیں کرتا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام والبرکات نے جنگل بیابان کے درمیان جہاں ادمی چھوڑ چرند پرند بھی نہ ملتا تھا۔جب خدا کے حکم کے مطابق اپنی بیوی اور بجہ کو چھوڑا اور بعد میں خدا تعالیٰ کی عبادت کے واسطے اس جگہ گھر بنایا تو خدا تعالیٰ نے اس جگہ ایک شہر اباد کر دیا۔اور بالآ خر جب کفّار نے اس گھر میں بُتوں کا ٹھکانہ بنا دیا تو محمدؐ جیسے پاک دل کو اس گھر کے مظہر کرنے کا جوش عطا کیا اور خدا تعالیف کے اس برگزیدہ نے وہ گھر ایسا پاک کیا کہ اس کے بعد کوئی مشرک نزدیک بھی نہیں جس سکتا۔یہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی