حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 521
ہیں۔اوّل اور سب سے اعلیٰ طبقہ کے لوگ وہ ہوتے ہیں۔جو کسی معجزہ۔نشانگ کرامت یا خارقب عاست کے دیکھنے کے محتاج نہیں ہوتے۔وہ اس نبی کی شکل دیکھتے ہی اور اس کا دعوٰی سنتے ہی اٰمَنَّا وَ صَدَّقْنَا کہہ اٹھتے ہیں۔ان کو نبی کے ساتھ ایک ازلی مناسبت حاصل ہوتی ہے اورو ہ فورًا اس پر ایمان لاتے ہیں جیسا کہ حضرت صدیق اکبر ابوبکر رضی اﷲ عنہ تھے۔آپ سفر میں تجارت کے واسطے باہر گئے ہوئے تھے۔اور عرب کو واپس آتے ہوئے ہنوز شہر سے دُور تھے۔راستہ میں ان کو ایک آدمی ملا۔اس سے بوچھا کہ ؟شہر کی کوئی تازہ خبر پہنچاؤ۔اس نے کہا۔کہ تازہ خبر یہ ہے کہ محمدؐ نے نبوّت کا دعوٰی کیا ہے تو بے شک سچّا دعوٰی کیا ہے۔اسی جگہ ایمان لائے اور صدیق اکبر کہلائے رضی اﷲ عنہ۔یہ اعلیٰ طبقہ کے آدمیوں کا نمونہ ہے۔اس سے کم درجہ کے لوگ وہ ہیں کہ جو کچھ تھوڑ ابہت دلائل سننے اور نشان دیکھنے کے بعد ایمان لے آتے ہیں۔اور مخالفت کی طرف نہیں دوڑتے۔اور رفتہ رفتہ محبت اور اخلاص میں بہت ترقی کر جاتے ہیں۔اس کے بعد تیسرے درجہ کے لوگ وہ ہیں کہ جب خدا تعالیٰ کے قہری عذاب نازل ہوتے ہیں۔اور ہر طرف سے فتوحات اور نصرت کے نشانات نمودار ہوتے ہیں، تو ان کے واسطے سوائے اس کے چارہ نہیں ہوتا کہ وہ بھی مومنوں کے درمیان شامل ہو جائیں۔اوّل اور دوم درجہ کے لوگوں کی خدا تعالیٰ نے بہت تعریف کی ہے۔اور ان کو رَضِیَ اﷲُ عَنْھُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ (المائدہ:۱۲۰) کا خطاب دیا ہے۔مگر تیسرے طبقہ کے لوگوں کا ذکر قرآن شریف میں صرف اتنا ہے کہ تو نے لوگوں کو دیکھا ہے۔کیونکہ وہ عوام ہیں۔کواص میں ان کا ذکر نہیں۔پھر بھی خوس قسمت ہیں۔کہ قرآن شریف میں ان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا گیا۔کہ وہ دین اﷲ میں داخل ہونے والے لوگ ہیں۔اس زمانہ میں خدا کے فرستادہ رسول حضرت مہدی معہود کے پیرو انہیں تین قسم کے لوگوں میں مشتمل ہیں۔بعض تو وہ اوّلین سابقین میں سے ہیں جو حصرت کے دعوٰی مسحائی سے بھی پہلے آپ کے ساتھ خلوص محبت رکھتے تھے۔اور دنیا میں کوئی بات ایسی نہ ہوئی جو ان کے خلوص اور محبت کو ایک قدم پیچھے ہٹانے والی ہو۔حصرت کا دعوٰی ان کے واسطے کوئی نئی بات نہ تھی۔ہر ابتلاء کے وقت انہوں نے قدم آگے بڑھایا… ایسے لوگوں کو خدا تعالیٰ نے ازل سے ایک فطرتی مناسبت اپنے رسول کے ساتھ عطا کی ہے کہ وہ اس سے علیحدہ رہ ہی نہیں سکتے۔دوسرے وہ لوگ ہیں جو کچھ کتابیں پڑھ کر اور کجھ نشانات دیکھ کر اور کجھ دیکھ بھال کر اس مقدّس سلسلہ میں داخل ہوئے اور دن رات انہوں نے اس میں ترقی کی اور