حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 520 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 520

داخل ہونے لگ جائیں گے۔اگر  کے معنے استقبال کے نہ لئے جاویں اور اس کے یہ معنے کئے جاویں کہ’’ جب فتح و نصرت الہٰی ا گئی‘‘ تب بھی یہ درست ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی کے جو پیسگوئیاں نازل ہوتی ہیں اور ان میں خدا اپنے بندے کی نصرت اور فتح کی خوشخبری دیتا ہے۔چونکہ وہ بات یقینی ہوتی ہے اور ضرور ہو جانے والی ہے۔کویئی اس کو ٹال نہیں سکتا ہے اور آسمان پر مقدّر ہو چکا ہے۔کہ یہ کام اس طرح سے ہو گا۔اس واسطے اس کو ایسے الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔کہ گویا یہ کام ہو گیا ہے۔کیونکہ کوئی کام زمین پر نہیں ہو سکتاجب تک کہ پہلے آسمان پر نہ ہو لے۔اس کی مثال دنیوی محاورات میں بسی موجود ہے۔جب کسی کو یقین ہو جاوے کہ اس مقدمہ میں تمام امور میری مرضی کے مطابق طے ہو جائیں گے اور مَیں ضرور فتح پالوں گا تو وہ کہتا ہے کہ بس مَیں نے مقدمہ فتح کر لیا۔حالانکہ ہنوز مقدمہ زیر بحث ہوتا ہے اور عدالت نے فیصلہ نہیں سنایا ہوتا۔لیکن بہ سبب یقین کے وہ ایسا ہی کہتا ہے۔کہ مقدمہ فتح ہو گیا۔اس قسم کے الہامات اور پیشگوئیوں کی تازہ مثالیں خود اس زمانہ میں موجود ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بسا اوقات ایسے الہامات خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں جو کہ اپنے اندر ایک پیشگوئی کا رنگ رکھتے ہیں۔مثلاً ۱۴؍اپریل ۱۹۰۶ء کو حضرت مسیح موعودؑ پر خدا تعالیٰ کی وحی بدیں الفاظ نازل ہوئی کہ ’’زلزلہ آیا زلزلہ آیا زلزلہ آیا‘‘ اور یہ خبر اس زلزلہ کے متعلق تھی جو ۱۸۔مئی ۱۹۰۶ء کو واقع ہو ا۔لیکن اس کا آنا مقدّر ہو چکا تھا۔اس واسطے ایک ماہ پہلے ہی کہا گیا کہ زلزلہ آیا۔زلزلہ آیا۔ کے معنے ہیں۔آیا۔آمد۔اس لفظ میں قابلِ توجہ یہ بات ہے کہ اﷲتعالیٰ نے فرمایا کہ فتح اور نصرت تیرے پاس آئی جسے خدا تعالیٰ نے اپنے نبی کی تائید کے واسطے عین ضرورت کے وقت میں بھیجا۔: اﷲ تعالیٰ کی نصرت۔اﷲ تعالیٰ کی طرف سے مدد۔: وہ خاص فتح جس کے تم منتظر تھے۔اور جس کے متعلق پہلے سے پیشگوئی کی جا چکی تھی۔اور تورات اور انجیل میں جس کا ذکر کیا گیا تھا۔یعنی فتح مکّہ۔وہی مکّہ جس میں سے جان بجا کر بھاگنا پرا تھا۔اور خفیہ طور پر رات کے وقت ہجرت کرنی پڑی تھی۔اسی کے فتح کے دن آتے ہیں۔اور مظفر و منصور ہو کر اس میں داخل ہونے کے ایام قریب ہیں۔: اور تُو نے دیکھ لیا۔تو نے جان لیا۔تُو نے معلوم کر لیا۔: لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے نبی رسول دنیا کی طرف مبعوث ہوتا ہے تو اس کا ساتھ دینے والے لوگ تین قسم کے ہوتے