حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 515 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 515

مقامِ نزول: جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے کہ یہ سورۃ شریف مکّی ہے۔مگر ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ مدنی ہے ایسا ہی بعض دوسری سورتوں کے متعلق بھی بظاہر اس قسم کا اختلاف روایات میں معلوم ہوتا ہے۔مگر ممکن ہے کہ بعض سورتیں اور آیتیں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر نہ ایک بار بلکہ کئی بار نازل ہوئی ہوں۔جیسا کہ ہم حضرت مسیح موعودؑ کے حالات میں دیکھتے ہیں کہ ایک پیشین کوئی وحی الہٰی میں ایک دفعہ نازل ہو کر مثلاً کتاب براہین احمدیہ میں چھپ چکی ہے لیکن جب اس کے پورا ہونے کا وقت آیا تو نزولِ اوّل کے بیس پچیس سال بعد پھر وہی الفاظ الہامِ الہٰی میں وارد ہوئے۔دِیْن: جزا و سزا کے معنے میں بھی آتا ہے۔اور اس کا یہ مطلب ہے کہ تم لوگوں نے جس طریقہ کو اختیار کیا ہے اس کا بدلہ تم کو بہر حال مل کر رہے گا جو طریقہ ہم نے اختیار کر لیا ہے اس کا بدلہ خدا ہم کو ضرور دے گا۔اَلْکَفِرُوْن: اس جگہ اگرچہ اوّل مخاطب وہی کفّار اور ان کے ساتھی تھے۔جنہوں نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں پیغام تھا۔اور اس وجہ سے اس سورۃ شریف کے نزول کے اصل محرّک وہی تھے۔لیکن ان کے بعد تمام دنیا کے کفّار جو مسلمانوں کے ساتھ اس قسم کا سلوک کریں۔اس سورۃ میں مخاطب ہیں۔قاعدہ ہے۔کہ زمانہ نزولِ انبیاء میں بعض منکریں ایسے سخت دلد ہو جاتے ہیں۔کہ کوئی نصیحت ان کے واسطے کارگر نہیں ہو سکتی۔اور ہر ایک نشانِ الہٰی جو دوسروں کے واسطے موجب ازدیادِ ایمان ہوتا ہے۔ان کے لئے بجزازدیادِ کفر اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ایسے کفار کے حق میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔(البقرہ:۷)وہ حالتِ کفر میں ایسے غرق ہیں کہ آنیوالے عذابوں سے تُو انہیں ڈرائے یا نہ ڈرائے۔سب برابر ہے۔وہ کبھی ایمان نہیں لاویں گے۔اور فرمایا ہے۔(المائدہ:۶۵) تیرے ربّ کی طرف سے جو تجھ پر نازل ہوا ہے۔یہ ان میں سے بہتوں کی سر کشی اور کفر کو اور بھی بڑھا دے گا۔ایسے کافروں کو کہا گیا ہے کہ (البقرہ:۱۴۰) ہمارے عمل ہمارے لئے اور تمہارے عمل تمہارے لئے۔اور ایسے ہی مکذّبوں کے متعلق فرمایا۔ (یونس: ۴۲) ان کو کہہ دو کہ میرے عمل میرے لئے ہیں اور تمہارے عمل تمہارے لئے ہیں۔تم میری کارکردگی کا ثواب نہیں پا سکتے اور مَیں تمہاری کاروائیوں سے بَری ہوں۔حفاظتِ قرآن: اس سورۃ شریف کے الفاظ کو اپنے قرآن شریف پر بعور دیکھتے ہوئے اس کی طرزِ تحریر میں ایک خاص بات مجھے نظر آئی اور وہ یہ ہے کہ اس میں