حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 514
دکھائے کہ اس مذہب پر چلنے سے کیا کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں لیکن کسی دوسرے مذہب کا کچھ ذکر نہ کریں۔مذہبی جنگوں کے خاتمہ کے واسطے اور آئے دن کے جھگڑوں اور تنازعوں کے مٹانے کے لئے یہ نہایت ہی احسن طریقہ تھا مگر افسوس ہے کہ لوگوں نے اس طرف توجہ نہ کی۔غرض اس قسم کی صلح تو انبیاء کی سنّت کے مطابق ہے۔لیکن یہ بات کہ مداہنہ کے ط۹ور پر اور منافقت سے کچھ تم ہمارے عقائد کو مان لو اور کچھ ہم تمہارے عقائد کو مان لیں۔ایسا طریقہ خد اکے سچے رسول کبھی اختیار نہیں کر سکتے۔نسخ: بعض لوگ اس سورۃ شریف کے یہ معنے سمجھ کر اس کو منسوخ سمجھتے ہیں کہ کفّار کوان کے دین پر رہنے کی اس میں اجازت دی گئی ہے۔کہ وہ بیشک اپنے دین پر رہیں اور مسلمان ان کے ساتھ کوئی تعرض نہیں رکھیں گے۔لیکن جب جہاد کے متعلق آیات نازل ہوئیں۔تو پھر یہ سورۃ منسوخ ہو گئی۔یہ بات بالکل غلط ہے۔قرآن شریف کی کوئی سروت اور سورت کا کوئی حصّہ منسوخ نہیں ہے سب کا سب ہمیشہ کے واسطے بنی نوع کے عمل کے لئے عمل کرنے اور فائدہ اٹھانے کے واسطے ہے۔قیامت تک قرآن شریف کا ایک نقطہ بھی منسوخ نہیں ہو سکتا۔اصل بات یہ ہے۔کہ مذہب اسلام میں دینی اختلاف کی وجہ سے نہ کوئی لڑائی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے کی اور نہ آپ کے بعد کبھی کسی کو اجازت ہے۔کہ دینی اختلاف کی وجہ سے کسی کو قتل کرے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ و الہٖ وسلم کے زمانہ میں کفار نے جب مسلمانوں کو سخت دُکھ دیا اور طرح طرح کے ایزاء کے ساتھ پہلے مسلمانوں کو تہ تیغ کرنا شروع کیا اور بڑی بڑی فوجیں لے کر ان پر چڑھائیاں کیں تو بہت سے صبر اور تحمّل کے بعد جب وہ کسی طرح بھی باز نہ آئے تو خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو اجازت دی کہ ایسے شریروں سے اپنا بچاؤ کریں اور ان کو شرارت کی سزا دیں۔جہاد کے واسطے جو کچھ حکم تھا۔یہی تھا۔اور اس زمانہ میں بہ سبب اس کے کہ مذہب کی خاطر مسلمان کسی ملک میں دُکھ نہیں دئے جاتے۔خود ان کی بھی ضرورت نہیں رہی۔سورۃ کافرون میں تو خود جہاد کے کرنے یا نہ کرنے کاکوئی تذکرہ بھی نہیں۔لیکن اگر بہر حال یہ سمجھا ہی جاوے کہ اس سورۃ شریف میں جہاد کے متعلق کوئی حکم ہے تو وہ جہاد کے جواز کا ہو سکتا ہے۔نہ کہ اس کے نسخ کا۔کیونکہ اس سورۃ میں مخالفوں کو ایک چیلنج دیا گیا ہے ۱؎ کہ تم اپنے دین کے ساتھ زور آزمائی کرو۔اور ہم اپنے دین کی قوّت کے ساتھ تمہارا مقابلہ کرتے ہیں۔پھر دیکھو کہ خدا کس کو کامیاب کرتا ہے۔اور یاد رکھو کہ یہ کامیابی بہر حال اسلام کے واسطے ہے۔پس یہ سورت کسی حالت میں منسوخ نہیں اور نہ کوئی اَور حصہ قرآن شریف کا منسوخ ہوا یا ہو سکتا ہے۔۱؎ ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۴؍نومبر ۱۹۱۲ء