حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 513 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 513

ہوئے اسلام کی طرف ان کو بلاتا ہوں اور کس قادر توانا حیّ و قیوّم معبود حقیقی کے قُرب کے حصول کا ذریعہ ان کے آگے پیش کرتا ہوں اور کیسی دائمی خوشی اور ابدی راحت کا تحفہ ان کے واسطے تیار کرتا ہوں جس کے عوض یہ مجھے ناپائیدار مال اور عورت کے چند روزہ حُسن کا لالچ دیتے ہیں۔اور پتھر کے آگے سرجھکانے کو کہتے ہیں۔جو انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑے اور بنائے ہیں۔چونکہ آپ کو ان لوگوں کی خیر خواہی کے واسطے بڑا درد تھا۔جس کو خدائے علیم نے ان الفاظ میں ظاہر کیا ہے کہ فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ۔(الشعراء:۴) کیا تو اس غم میں کہ یہ ایمان نہیں لاتے اپنی جان کو ہلاک کر دے گا۔آپؐ نے کفّار کے ایسے جاہلانہ سوال پر درد مند ہو کر یہی بہتر سمجھا کہ اس کے جواب کے واسطے اپنے معبودِ حقیقی کی طرف توجہ کریں اور یہی طریقہ ہمیشہ سے انبیاء کے حصّہ میں آیا ہے۔چنانچہ آپؐ کی توجہ کے بعد خدا تعالیٰ سے کفّار کے جواب میں یہ سورۃ شریف نازل ہوئی جس سے کفّار کی تمام امیدیں ٹوٹ گئیں۔اس قسم کے صلح کے شرائط عمومًا کفّار انبیاء کے سامنے بہ سبب اپنی جہالت کے پیش کیا کرتے ہیں۔چنانچہ اس زمانہ میں بھی خدا کے مُرسل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مخالفوں نے یہ بات کہی کہ ان کے اِتّقاء اور علم اور عمل میں ہم کو کوئی شک نہیں۔بے شک یہ ولی اﷲ ہیں اور ہم ان کو ماننے کے واسطے تیار ہیں۔صرف مسیح ہونے کا دعوٰی نہ کریں اور بس۔تعجب ہے کہ ان لوگوں کی عقل پر کیسے پتھر پڑ گئے۔کیا وہ شخص جو متّقی اور عالم اور ولی اﷲ مانا جا سکتا ہے۔اس کی نسبت یہ کلمہ بھی کسی عقل کی رُو سے کہنا جائز ہو سکتا ہے کہ اس نے دعوٰی نبوّت اور مسیحیت کا از خود کر دیا ہے۔اور خدا پر افتراء باندھا ہے۔کیا مفتری علی اﷲ متّقی اور ولی اﷲ ہو سکتا ہے۔ہاں کفّار کے ساتھ ایک اور صورت صلح کی ہو سکتی ہے۔اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے بھی کفّار کے ساتھ کی تھی۔جس کی شرط یہ تھی۔ں کہ کفّار مسلمانوں پر حملہ نہ کریں اور نہ اُن لوگوں کی امداد کریں۔جو مسلمانوں پر ناجائز حملہ کرتے رہتے ہیں۔اور ایسے ہی مسلمان نہ ان کو کسی قسم کی تکلیف دیں گے۔اور نہ ان کے تکلیف دہندوں کی کوئی حمایت کرے گا بلکہ ہر طرح سے ان کے بچاؤ کی کوشش کریں گے۔اسی رنگ میں صلح حضرت مسیح موعودؑنے بھی مخالف عیسائیوں، آریوں، ہندؤوں اور دیگر اقواک کے سامنے پیس کی تھی۔کہ چند سالوں تک جو معین کئے جاویں۔یہ قومیں مسلمانوں کے خلاف کوئی کتاب نئی یا پرانی شائع نہ کریں اور ایسا ہی مسلمان اس عرصہ میں کوئی کتاب اون مذاہب کی تردید میں نہ لکھیں گے ہاں ہر ایک مذہب کے عالم کو یہ اختیار ہو گا کہ صرف اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرتے رہیں۔کوئی کتاب لکھے جس میں یہ