حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 498 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 498

معاملات عامیوں کی طرح نہ ہوں بلکہ ایک پاک نمونہ ہوں۔پھر دیکھو۔کوثر کا نمونہ ملتا ہے یا نہیں۔لیکن ایک طرف سے تمہارا فعل۔دوسری طرف سے خدا کا انعام۔درود پڑھو۔آج ۱؎ کل کے دن عبادت کے لئے مخصوص ہیں۔وَاذْکُرُوا اﷲَ فِیْ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدَاتٍ ( البقرۃ: ۲۰۴) کل وہ دن تھا کہ کل حاجی ہر طبقہ اور ہر عمر کے لوگ ہوں گے۔دنیا سے نرالا لباس پہنے ہوئے عرفات کے میدان میں حاضر تھے۔اور لَبَّیْکَ لَبَّیْکَپکارتے تھے۔آج منٰی کا دن ہے۔آج ہی وہ دن ہے جس میں ابراہیم نے اپنا پاک نمونہ قربانی کا دکھلایا۔۱؎ عیدالاضحٰی ۲۱؍اپریل ۱۸۹۹ء۔(مرتّب) کوئی اس کی طاقت نہ رہی تھی جسے خدا پر قربان نہ کیا ہو۔نہ صرف اپنی بلکہ اولاد کی بھی۔یہ جمعہ کا دن ابراہیم کی قربانی اور مفاخر قومی کا روز ہے جس میں عرب کے لوگ قبل اسلام بزرگوں کے تذکرے یاد کر کے فخر کیا کرتے تھے۔اس میں خدا کا ذکر کرو جیسے فرمایا۔فَاذْکُرُوا اﷲَ کَذِکْدِکُمْ اَبَآئَکُمْ ( البقرہ:۲۰۱) خد ا کی یاد میں فریاد کرنے میں خدا کے حصور ساری قوتوں کو قربان کرنے کے لئے خرچ کرو پھر دیکھو کہ تمہارے کام کیا پھل لاتے ہیں۔انسان خوشحالی چاہتا ہے۔اور دشمنوں کی ہلاکت۔خدا تیار ہے، مگر قربانی چاہتا ہے۔اولاد پر نمونے دکھاؤ جیسے اسمٰعیل نے دکھایا۔پس نئے انسان بنو۔پھر دیکھو کہ خدا تعالیٰ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے طفیل تم کو کس طرح کی کوثر دیتا ہے۔اور تمہارے دشمنوں کو ہلاک کرتا ہے۔(الحکم ۱۲؍مئی ۱۸۹۹ء صفحہ صفحہ ۱ تا ۳) یہ ایک سورۂ شریفہ ہے بہت ہی مختصر۔لفظ اتنے کم کہ سننے والے کو کوئی ملال طوالت کا نہیں یہاں تک کہ ایک چھوٹا سا بچہ بھی ایک دن میں اسے یاد کر لے۔اگر ان کے مطالب اور معافی کو دیکھو تو حیرت انگیز ان کو بیان کرنے سے پہلے میں ایک ضروری بات سنانی چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے۔کہ جہاں تک میں غور کرتا ہوں واعظوں اور سننے والوں کی دو قسم پاتا ہوں۔ایک وہ واعظ ہیں جو دنیا کے لئے وعظ کرتے ہیں۔دنیا کا وعظ کرنے والے بھی پھر دو قسم کے ہیں۔ایک وہ جو اپنے وعظ سے اپنی ذات کا فائدہ چاہتے ہیں یعنی کچھ روپیہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اور ایک وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی یہ غرض تو نہیں ہوتی کہ خود کوئی روپیہ حاصل کریں۔مگر یہ مطلب ضرور ہوتا ہے کہ سننے والے کو ایسے طریقے اور اسباب بتائیں جس سے وہ روپیہ کما سکیں۔مادی ترقی کرنیوالے نہیں۔دنیا کے لئے وعظ کرنے والوں میں اس قِسم کے واعظوں کے اغراض