حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 497 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 497

الاصیفاء خاتم الانبیاء ان دعاؤں کا ثمرہ ہیں۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَ سَلِّمْ وَ بَارِکْ عَلَیْہِ وَعَلٰی اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ابراہیم علیہ السلام بہت بوڑھے اور صعیف تھے۔کدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق اولادِ صالح عنایت کی۔اسمٰعیل جیسی اولاد دی۔جب جوان ہوئے تو حکم ہوا کہ ان کو قربانی میں دیدو۔ابراہیم کی قربانی دیکھو بڑھاپے کا زمانہ دیکھو مگر ابراہیم نے اپنی ساری طاقتیں ، ساری امیدیں ، تمام ارادے ، یوں قربان کر دئے کہ ایک طرف حکم ہوا اور معاً بیٹے کی قربانی کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔پھر بیٹا بھی ایسا بیٹا تھا کہ جب ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا۔بیٹا اِنِّیْ اَرٰی فِی الْمَنَامِ اَنِّیْ اَذْبَحُکَ ( الصّٰفّٰت : ۱۰۳)تو وہ خدا کی راہ میں جان دینے کو تیار ہو گیا۔غرض باپ بیٹے نے ایسی فرماں برداری دکھائی کہ کوئی عزّت، کوئی آرام کوئی دولت اور کوئی امید باقی نہیں رکھی۔یہ آج ہماری قربانیاں اُسی پاک قربانی کا نمونہ ہیں۔پھر اﷲ تعالیٰ نے بھی کیسی جزا دی۔اولاد میں ہزاروں ہزار بادشاہ۔انبیاء بلکہ خاتم الانبیاء بھی اسی کی اولاد میں پیدا کیا۔وہ زمانہ ملا جس کی انتہاء نہیں۔خلفاء ہوں تو وہ بھی ملّتِ ابراہیمی میں۔سارے نواب اور خلفاء الہٰی دین کے قیامت تک اسی گھرانے میں ہوئے ہیں اور ہونے والے ہیں۔پھر جب شکریہ میں نماز میں خدا کی عظمت اور کبریائی بیان کی تو مخلوقِ الہٰی کے لئے بھی کیونکہ ایمان کے اجزاء تو دو ہی ہیں۔تعظیم لامر اﷲ اور شفقت علیٰ خلق اﷲ۔ان مخلوق کے لئے یہ کہ : جیسے نماز میں لگے ہو۔قربانیاں بھی دو تاکہ مخلوق سے سلوک ہو۔قربانیاں وہ دو جو بیمار نہہوں، دُبلی نہ ہوں، بے آنکھ نہ ہوں، کان چِرے ہوئے نہ ہوں، عیب دار نہ ہوں، لنگڑی نہ ہوں اس میں اشآرہ یہ ہے کہ جب تک کامل قوٰی کو خدا کے لئے قربان نہ کرو گے۔ساری نیکیاں تمہاری ذات پر جلوہ گر نہ ہوں گی۔پس جہاں ایک طرف عظمتِ الہٰی میں لگو۔دوسری طرف قربانیاں کر کے مخلوقِ الہٰی سے شفقت کرو اور قربانیاں کرتے ہوئے اپنے کل قوٰی کو قربان کر ڈالو اور رضاالہٰی میں لگا دو۔پھر نتیجہ کیا ہو گا۔: تیرے دشمن ابتر ہوں گے۔انسان کی خوشحالی اس سے بڑھکر اور کیا ہو گی کہ اس کو اب تو راحتیں ملیں۔اور اس کے دشمن ہلاک ہوں۔یہ باتیں بڑی آسانی سے حاصل ہو سکتی ہیں۔خدا کی تعظیم اور اس کی مخلوق پر شفقت۔نمازوں میں خصوصیت دکھاؤ۔کانوں پر ہاتھ لے جا کر اﷲ اکبر زبان سے کہتے ہو مگر تمہارے کام دکھاویں کہ واقعی دنیا سے سروکار نہیں۔تمہاری نماز وہ نماز ہو جو تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَ الْمُنْکَرِ (العنکبوت: ۴۶) ہو تمہارے اخلاق تمہارے معاملات