حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 46
ارشاد ہے۔ہمیشہ کا مفتوح ملک اور جس نے کبھی ذرہ سر اٹھایا تو منہ کے بل گرا۔شریروں بدمعاشوں سے جنگ کا تذکرہ سُن کر کیا خوشی حاصل کر سکتا ہے؟ جس کو کبھی مکالماتب الہٰیہ کا شرف حاصل نہیں ہوا۔وہ برہمو مت کا آدمی یا عام طور کا غافل یا جس کو یقین ہے کہ الہٰی مکالمہ کا شرف دو ارب برس کے قریب ملہمان وید کے بعد کسی کو بھی نصیب نہیں۔وہ انبیاء کی وحی و مکالمہ کو ڈھکو سلانہ سمجھے تو کیا کرے؟ یا جس قوم کو باہر نکلنے کا اتفاق نہیں ہوا اور نہ ان کو ضرورتیں پیش آئیں اور وہ نہیں جانتے تھے کہ بعص جگہ گائے کا دودھ اور جَو کے ستّو اور ساگ نہیں مل سکتا۔گو بیہودہ لاف زنی سے کہتے ہیں کہ ہمارے بزرگ چکر ورتی راجہ تھے وہ (مائدہ:۶) کا سرّکس طرح سمجھے؟ تجربہ کے سوا کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ سکتا! غرض جامع کتاب کو سب کچھ جو انسان کے لئے ضروری البیان ہے بیان کرنا پڑتا ہے۔اگر وہ کتاب بیان نہ کرے جو اپنے آپ کو کامل و جامع کہتی ہے تو کون بیان کرے؟ اگر آپ نہ سمجھیں یا نہ جاہیں تو آپ کی خاطر کیوں ضرورتوں کے بیان کو ترک کیا جاوے؟ کیا ساری دنیا پر برہمچر یہ مذہب رکھتی ہے؟ اﷲ تعالیٰ نے دماغ برین اور اعصاب میں مختلف خواص رکھے ہیں۔ان خواص کو مدّنظر رکھنا کامل کتاب کا کام ہے! شلیل کہنا تمہاری شیریں کلامی کا ثبوت ہے۔،، کے معنی کنواریاں۔اپنے خاوندوں سے محبت کرنے والیاں۔قریب العمر۔کیا نیکوں کو ایسی نہ ملیں تو چڑیلیں ملیں؟ (نورالدّین طبع سوم صفحہ ۱۳۳۔۱۳۴) ۵۲ تا ۵۶۔۔ ۔۔۔ ۔ترجمہ: پھر تم اے گمراہ اور مکذّب لوگو! ضرور کھاؤ گے تھوہر کے درخت سے۔پھر اس سے پیٹ بھرنا ہو گا۔پھر اس پر گرم پانی پینا ہو گا۔اور اس طرح پیو گے جس طرح پیاسا اونٹ بے تکا ہو کر