حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 45 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 45

اولیاء کے سونے کے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۸۳) سوال: حوروں پر اعتراض، گوری، کنواری، ہم عمر ، نوجوان، سیاہ آنکھوں والی دوشیزہ عورتیں ملیں گی۔برہم چاری اس قسم کی شکیل باتوں کا منہ پر لانا بھی مہاں پاپ سمجھتا ہے۔قرآن کریم کے کلمہ طیّبہ ،، پر اعتراض کیا ہے۔الجواب: کیا الہٰی کتب صرف برہمچریہ کے لئے ہو ا کرتی ہیں۔نادان انسان اگر خاص خاص مذاق کے لئے الہٰی کتابیں ہوں تو دوسرے مذاق والے کیا کریں۔وہ شُتر بے مہار رہیں۔بتا ان کی اصلاح کون کرے۔نیز چاہیئے کہ نہ تم نے سیارتھ پرکاش پڑھنا اور نہ منوکاشاستر اور چاہیئے کہ تم وید کو بھی نہ پڑھو کیونکہ ۱۰۴ اور ۱۰۵ صفحہ ستیارتھ پرکاش میں لکھا ہے۔اشونی۔بھرنی وغیرہ ستاروں کے نام والی۔تُلسی گلابی وغیرہ پودوں کے نام والی۔گنگا جمنا ندی کے نام والی۔پاربتی پہاڑ کے نام والی۔پرندوں کے نام وال اور اس قسم کے نام والیوں سے نکاح نہ کرنا نمبر۹ میں کہا ہے۔نہ زرد رنگ والی۔نہ بھُوریآنکھ والی وغیرہ۔نمبر۱۱ میں کہا ہے جس کا نام زیبا جیسے بشودھا۔سکھدا وغیرہ ہنس اور ہتھنی کے برابر جس کی چال ہو جس کے سر کے بال باریک اور چھوٹے دانت والی ہو۔اور جس کے سب اعضاء ملائم ہوں۔ایسی عورت کے ساتھ بیاہ کرنا۔اس قدر حوالے غالباًاگر تم شریف الطبع ہو تو کافی ہیں۔پس بڑا اور مہان پاپ کیا اس پاپی نے جس نے ست کے ارتھ میں ایسی شلیل باتوں کا ذکر کیا اور اس کے پڑھنے کو کہا! بدبخت! کامل کتاب ضروریات اور حقیقی راحت بخش بات کا بیان نہ کرے تو کیا چنڈالوں کی کتابیں سچائی بیان کریں۔کامل کتاب وہ نہیں ہو سکتی۔جس میں صرف برہم چریہ زندگی کا ہی تذکرہ ہو۔نہ وہ جس میں صرف چند اخلاقی باتوں کا ہی تذکرہ ہو۔نہ وہ جس میں صرف سوشل امور کا بیان ہو۔نہ وہ جس میں صرف سیاست و انتظام کا معاملہ بیان ہو۔نہ وہ جس میں صرف سیاست و انتظام کا معاملہ بیان ہو۔نہ وہ جو صرف امورِ آخرت کے متعلق بحث کرے۔کہ وہ جس میں صرف عبادات کا ذکر ہو کامل کتاب تو وہ ہے۔جس میں انسانی اخلاق و عادات۔معاملات۔سیاست۔تمدّن۔امور بعد الموت اور الہٰی تعلیمات کی تعلیم بوجہ اتم بیان ہو۔یہ بھی ایک موقع اسلام پر اعتراض کا بعض احمقوں کو ملا ہے۔مثلاً کسی نے دیکھاکہ عورتوں کے متعلق قرآن شریف میں بحث ہے، پولیٹیکل بحثیں ہیں۔تو ایک نامرد و نامراد کسمپرس بول اٹھا کہ ان مباحث کی کتابِ الہٰی میں کیا ضرورت ہے۔صرف بھجن اور توصیفب الہٰی کے گیت کافی تھے۔چند لڑکے ان کو یاد کر لیتے اور وہ ڈھولکی پر گاتے۔اور نگر کیرتن کرتے۔ایک کنجوس اور غریب و مفلس بول اُٹھتا ہے کہ زکوٰۃ اور اعطائِ صدقات کا کیوں قرآن کریم میں