حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 482
کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کی طرف جُھکتا ہے تو خواہ اس کو کوئی دیکھا کرے اس امر کا اس کو کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔حضرت ابوہریرۃؓ فرماتے ہیں کہ مَیں ایک دن نماز پڑھ رہا تھا۔ایک آدمی آیا اور مجھے نماز پڑھتے دیکھا۔اس کا یہ دیکھنا مجھے بھلا معلوم ہوا۔میں نے حصرت رسول اﷲ صلی اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔آپؐ نے فرمایا۔تیرے لئے دُہر ا اجر ہے۔ایک سرّ کا اجر اور ایک علانیہ کا۔غرض یہ باتیں زیادہ تر نیّت پر موقوف ہیں۔بعض لوگ اس نیت سے ظاہری طور پر صدقہ و خیرات کرتے ہیں کہ دوسروں کو بھی نیک کام کے واسطے ترغیب پیدا ہوتی ہے۔وہ لوگ جو اندر سے ایک نیکی کا کام کرتے ہیں۔اور ظاہر میں اس کو بدی کا رنگ دیتے ہیں تاکہ خلقت کی نظروں میں وہ بد دکھائی دیں۔میرے نزدیک یہ بھی ریاکاری ہے۔کیونکہ انہوں نے اپنے عمل میں خلقت کی نظرِ بد یا نیک کی پرواہ کی ہے۔انسان کو چاہیئے کہ اپنے خدا تعالیٰ کے واسطے خالصۃً عبادت کرے پھر خواہ خلقت اس کو بُرا سمجھے یا بھلا۔اس امر کی پرواہ نہیں چاہیئے۔اور اپنے ظاہر کو جان بوجھ کر بُرا بنا آنحضرت رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی سکھلائی ہوئی اس دُعا سے ناجائز ثابت ہوتا ہے۔وہ دعا آنحضرت ؐ نے حضرت عمرؓ کو سکھلائی تھی اور اس طرح ہے۔اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ سَرِیْرَتِیْ خَیْرًا مَِّْ عَلَانِیَّتِیْ وَ اجْعَلْ عَلَانِیَّتِیْ صَالِحَۃً اے اﷲ میرے باطن کو میرے ظاہر سے بہتر بنا اور میرے ظاہر کو اچھا کرو۔۸۔۔اور منع کرتے ہیں برتنے کی چیز سے۔ماعونؔ بروزن فاعولؔ تھوڑی چھوٹی اور ادنیٰ شئے کو کہتے ہیں جو ایک دوسرے کو مانگنے سے استعمال کے واسطے دی جاوے تو دینے والے کا حرج نہ ہو اور لینے والے کو فائدہ ہو جاوے۔جیسا اس ملک میں پینے کے لئے پانی گ چولہے کی آگ، تھوڑا نمک، کلہاڑی، ہاون دستہ وغیرہ۔گھر میں ایسی اشیاء کا رکھنا جو ہمسایہ کے کام کبھی کبھی آویں۔موجبِ ثواب ہے۔بعض کے نزدیک ماعونؔ زکوٰۃ کو کہتے ہیں۔اس سورۃ شریف میں جو نشانیاں مکذّبَانِ دین کے واسطے بیان کی گئی ہیں وہ سب یورپ کے عیسائیوں پر ایسی چسپاں ہوتی ہیں کہ گویا یہ سورہ شریف ان کے ہی حق میں نازل ہوئی تھی۔سب سے اوّل دین کی تکذیب ہے۔سو یورپ کے علماء ہی جنہوں نے دنیا میں سب سے پہلے یہ بات ظاہر کی ہے کہ دین کایک لغو امر ہے۔مذہب کی طرف توجہ ہی کرنا بے فائدہ سمجھتے ہیں۔یتیم اور مساکین کو جھڑکنے کا یہ حال ہے۔کہ اگر کوئی مسکین اور یتیم راہ میں کسی سے سوال کر بیٹھے تو وہ مجرم گردانا جا کر جیل خانہ م