حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 481 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 481

نہیں۔اور خدا تعالیف کی طرف پوری توجّہ سے نہیں جھکتے اور جلدی جلدی نماز کو ختم کرتے ہیں۔اور نماز کے اندر و ساوس کو اور غیر خیالات کو بُلاتے ہیں۔۵۔پھر وہ لوگ جو نماز پڑھتے ہیں۔مگر ویسی نماز نہیں پڑھتے جو خدا تعالیٰ نے اپنے رسولؐ کو سکھلائی اور اس کے رسولؐ نے اپنی اُمّت کو سکھلائی بلکہ وہ اپنے لئے ایک نئی نماز ایجاد کرتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ جس وقت یہ سورہ ٗشریف نازل ہوئی تھی۔اس وقت بھی تو نماز پڑھی جاتی تھی۔اور ظن کرتے ہیں کہ تاریخی شہادتیں تما جھوٹی ہیں۔خواہ کسی قدر جانفشانی کے ساتھ وہ واقعات سینہ بسینہ جمع کئے گئے ہوں۔گویا ان کے نزدیک تمام جہان کی تاریخ جھوٹ ہے۔اور اس میں کچھ راستی نہی۔اور کہتے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ ہر ایک انسان اپنے لئے ٗآپ قرآن شریف کو سمجھے گا اور وہ دنیا میں ہزارہا اشیاء کے محتاج ہیں لیکن جب انہیں کہا جائے کہ تم قرآن شریف کو سمجھنے کے لئے بھی کسی کے محتاج ہو تو اپنے نفس کو دھوکہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ قرآن شریف کسی کا محتاج نہیں وہ کلامِ الہٰی ہے۔اور سج ہے کہ وہ محتاج نہیں۔کیکن کیا انسان بھی محتاج نہیں۔کیا ماں کے پیٹ سے کوئی شخص قرآن شریف پرھ کر نکلا تھا؟ اور وہ کہتے ہیں کہ وہ نماز جو دوسرے مسلمان پڑھتے ہیں۔وہ درست نہیں۔خواہ اس کے متعلق سچی اور حقیقی شہادت دکھائی جائے کہ آنحضرت نہی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے نماز اسی طرح پڑھی تھی اور کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے آنحضرتؐ سے روایت کی وہ قابلِ اعتبار نہ تھے۔اور نہیں سوچتے کہ اگر وہ سب کے سب ایسے ہی تھے تو پھر قرآن شریف بھی ہم تک انہیں بزرگوں کے ذریعہ سے پہنچا ہے پس کیونکر یقین ہو کہ قرآن بھی اصلی ہے کیونکہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت کا ذمّہ لیا ہے۔مگر کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ حفاظت کی آیت بھی ان لوگوں نے اپنے پاس سے ڈال دی ہو۔جنہوں نے ہم تک قرآن پہنچایا؟ پس یہ راہ بہت ہی خطرناک ہے جو چکڑالوی اور اس کے ہم خیالوں نے اختیار کی ہے! ۷۔۔: وہ لوگ جو : دکھاوا کرتے ہیں۔ریاکاری کرتے ہیں۔وہ لوگ جو لوگوں کی خاطر یا لوگوں کے سامنے لمبی نماز پڑھتے ہیں اور جب علیحدہ ہوتے ہیں تو پھر نہیں پڑھتے یا کسل کے ساتھ نماز کو ادا کرتے ہیں۔لیکن اصل بات نیت پر موقوف ہے۔اگر کوئی شخص سچے اخلاص کے ساتھ اور صدق ک