حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 470
: چونکہ اہلِ عرب کے واسطے مقدّر تھا۔کہ جب نورِ محمدیؐ ان کے درمیان سے طلوع کرے۔تو وہ اس سے منوّر ہو کر مشرق و معرب میں پھیلیں۔قیصر و کسرٰی کی سلطنتوں کے وارث بنیں۔ایران و شام کو فتح کریں۔مصر، الجیریا ، مراکو کو مسلمان بناتے ہوئے ہسپانیہ میں جا گسیں۔دوسری طرف ترکستان، افعانستان، ہند کے فاتہ بنیں۔چین کے لوگوں کو جا کر مسلمان بانئیں۔اس واسطے پہلے سے اﷲ تعالیٰ نے ان کی طبائع ایسے بانئے تھے۔کہ وہ سفر کو اور کیا گرمی اور کیا سردی۔ہر دو موسموں میں سفر کیا کرتے تھے۔پھر اس میں ایک پیشگوئی بھی مخفی ہے۔کہ اے قریش خدا تعالیٰ نے تمہارے واسطے برے بڑے سفر مقدّر کر رکھے ہیں۔وہ سفر ایسے نہ ہوں گے کہ تم جس موسم میں جاؤ۔اُسی میں تم واپس آ سکو۔بلکہ وہ لمبے سفر ہوں گے۔جن میں تم کو سردیاں بھی گزارنی پریں گی اور گرمیاں بھی گزارنی ہونگی۔خدا تعالیٰ کی قدرت اور طاقت کیا وسیع ہے۔کہ اس نے عرب کی قوم ہاں اس پتھر کو جسے معماروں نے ردّ کر دیا تھا کہ یہ کام کا نہیں اسے ہی کونے پر لگایا۔وہی قوم تمام دنیا کی سردار بنتی ہے۔وہی قوم تمام یورپ کو مہذّب بنانے والی ہوئی۔مشرق و مغرب میں اُس نے علوم کا چراغ روشن کر دیا۔آج تک تمام اعلیٰ علوم انہیں کی کتابوں سے اخذکئے جاتے ہیں۔ایک ایک مسلمان نے وہ شاندار کتاب لکھی ہے جس کے برابر آج بری بری جماعتیں لگ کر اور لاکھوں کروڑوں روپے خرج کر کے بھی نہیں لکھ سکتیں۔کیسا طاقتور۔قادر۔توانا۔آئندہ کی خبروں سے واقف خدا اس گھر کا ہے جو تیرہ سو سال سے اس قدر عزّت پا رہا ہے۔وہ جسے ابراہیم علیہ السلام والبرکات نے جنگ میں بنایا۔جنگ بھی وہ جس کے گردا گرد سینکڑوں کوسوں تک کوئی ابادی نہ تھی۔اس گھر میں خدا کی عبادت کے واسطے اپنی بیوی اور بچے کو چھوڑ دیا۔اﷲ اﷲ کیا ہی وہ ایمان تھا جو حصرت ابراہیمؑ کے سینہ اور دردِ دل میں تھا۔کیا ہی توکّل اور ایمان والی وہ بیوی تھی جس نے اپنے خاوند کو کہا کہ جب یہ خدا کا حکم ہے تو اب تُو جا۔تیری اور نہ کسی اور کی ہم کو پرواہ ہے۔کیا ہی پیارا وہ بچہ تھا۔جس کی خاطر جنگل بیابان میں چشمہ جاری ہوا۔اور ایسا جاری ہوا کہ آچ تک تمام جہان کے لوگ اس کا پانی پیتے ہیں۔خدا کی ہزاروں ہزار رحمتیں اور برکتیں ہوں تجھ پر اے خدا کے خلیل۔اے نبیوں کے باپ اور ہزاروں ہزار برکتیں اور رحمتیں تجھ پر ہوں۔اے عورتوں میں ایک بے نظیر عورت۔مصر کی شاہزادی اور ابراہیمؑ کی بیوی اور اسمٰعیل ؑ کی ماں۔کیا ہی خدا رسیدہ تیرا دل تھا کہ تُو نے خدا کے حکم کی تابعداری میں اپنے بھاری امتحان کو اپنے سر پر قبول کیا کہ اگر وہ امتحان پہاڑ پر پڑتا تو پہاڑ اس کے بوجھ سے شق ہو جاتا۔بے شک تو ہی اس قابل تھی کہ تیری اولاد میں سے نبیوں کا سردار محمدؐ پیدا ہوتا۔تیری اس مضطر یا نہ دَور کی یادگار میں آج تک لاکھوں انسان مختلف بلاد سے آ کر تیرے