حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 462 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 462

سُوْرَۃَ الْفِیْلِ مَکِّیَّۃٌ ۲۔۔کے معنی اَلَمْ تَعْلَمْ کے ہیں۔کیونکہ اصحٰب فیل کا واقعہ متواتر بیان سے ایسا معتبرو مشہود تھا کہ رَوْیَت اور علم کا حکم رکھتا تھا۔جس سال اصحاب فیل تباہ ہوئے۔اسی سال پیغمبر صلی اﷲ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔آپؐ کی ولادت ۵؍ اپریل ۵۷۱ء کو ہوئی۔آپؐ کی ولادت با سعادت کے لئے اصحاب الفیل کا واقعہ بطور توطیہ و تمہید کے تھا۔فر ما کر ربوبیتکے لفظ سے پیغمبر صلی اﷲ علیہ وسلم کو یہ تسلّی فرمائی کہ آپؐ کی پیدائش سے پہلے ہی جبکہ آپؐ کے ربّ نے آپ کی خاطر اس قسم کی کی صیانت کی ہے کہ ایک بادشاہ کے زبردست لشکر کو ہلاک کر دیا۔تو کیا وہ ربوبیت جبکہ آپ پیدا ہو چکے ہیں تو آپ سے الگ ہو سکتی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۶؍ستمبر۱۹۱۲ء) عباسیوں کی سلطنت تھی۔ایک دفعہ محمود غزنوی سے ان کی کچھ رنجش ہو گئی۔محمود غزانوی نے اس خلیفہ کو لکھا کہ میں ہندوستان کا فاتح ہوں اور میرے پاس اتنے ہاتھی ہی۔خلیفہ نے اس کے جواب میں اَلَمْ اَلَمْ نہایت خوبصورت لکھوا کر بھیج دیا۔محمود کے دربار میں تو سب فارسی دان ہی تھے۔چنانچہ اس زمانہ کی یادگار صرف ’’ شاہ نامہ‘‘ ہی باقی ہے۔وہ تو کچھ سمجھے نہیں۔آخر محمود نے کہا کہ خلیفہ نے یاد دالئی ہے اور اس کا مطلب ہے کہ تمہارے پاس ہاتھی ہیں تو ہمارا وہ رب ہے جو اصحاب الفیل کو ہلاک کر چکا ہے۔بہت ڈر گیا اور معذرت کی جس پر تعلقات درست ہو گئے۔مگر پھر بغدادِ کا حال ہمیں معلوم ہے۔وہ محمود غزنوی جو خلیفہ کے اَلَمْ اَلَم سے ڈر گیا تھا۔اسی پایۂ تخت کو ہلاکو اور چنگیز نے تباہ کر دیا۔ایک ہزار شخص جن پر سلطنت کے متعلق دعوٰی کا گمان تھا ان سب کو دیوار میں چُن دیا۔وہ بی بی جس کا نام نسیم بی بی رکھا تھا ایک گلی میں اس حالت میں دیکھی گئی کہ کُتے اس کا لہو چاٹ رہے تھے۔