حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 460 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 460

سُوْرَۃَ الْھُمَزَۃِ مَکِّیِّۃٌ ۲۔۔ھُمَّزَّہ میں ۃ مبالغہ کے واسطے ہے۔جیسے علاّم علاّمۃ ھُمذ کے معنے توڑنے کے ہیں اور یُمز کے معنے طعنہ مارنے کے ہیں۔ھُمَّذَّہ۔لُمَّذَّہ کے معنے لوگوں کی آبرؤوں۔عزّتوں میں طعن و تشنیع کے ذریعہ شکستگی پیدا کرنے کے ہیں۔ہامز وہ شخص ہے جو روبر و بد گوئی کرے۔یا آنکھ اور ابرو وغیرہ کے اشارات سے کسی کی تحقیر کرے۔اور لامز جو پسِ پست کسی کی بدگوئی کرے۔کُلُّ کا لفظ جامع ہے۔ہر قسم کے ھامزین اور لامزین پر۔کسے باشد مسلم ہو یا کافر۔انبیاء کے اخلاق میں کبھی یہ ضعف پایا نہیں جاتا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۶؍ستمبر ۱۹۱۲ء) ۳۔۔حُبُّ الدُّنْیَا رَأْسُ کُلِّ خَطِیْئَۃٍ مال کے جمع کرنے کی حرص کو ہر قسم کے گناہ سے شدید مناسبت ہے۔منجملہ ان کے ایک ھمّازی اور لمّازی بھی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۶؍ستمبر ۱۹۱۲ء) ۶۔۔حَطَمَ کے لغوی معنی بھی توڑنے ہی کے ہیں۔زراعت کا غلّہ جو چُورنے کے لئے جانوروں کے پیروں سے روندایا جاتا ہے۔وہ حُطام کہلاتا ہے۔ک (الواقعہ:۶۶)ہمز ار لمز کی جزا میں بھی سزا بالمثل کے طور پر اﷲ تعالیف نے نارِ جہنم کے طبقہ کا نام حُطَمَۃ بیان فرمایا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۶؍ستمبر ۱۹۱۲ء)