حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 458 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 458

کو برداشت کرنے کے لئے دوسرے کو صبر سکھاؤ اور خود بھی صبر کرو۔یہ سورۃ اگر تم نے سمجھ لی ہے تو دوسروں کو بھی سمجھاؤ اور برکت حاصل کرو۔میں چاہتا ہوں کہ تم اﷲتعالیٰ سے محبت کرو۔اس کے ملائکہ سے نبیوں اور رسولوں سے محبت کرو۔اور کسی کی بے ادبی نہ کرو۔تم کو اﷲ تعالیٰ نے بری نعمت عطا کی ہے۔حضرت صاحب کا دنیا میں آنا کوئی معمولی بات نہیں۔تم اس طرح یہاں بیٹھے ہو۔یہ انہی دعاؤں کا نتیجہ ہے دعائیں بہت کرو اﷲ تعالیٰ تم کو دوسروں تک حق پہنچانے کے لئے توفیق دے۔(بدر ۲۷؍فروری ۱۹۱۳ء صفحہ ۳،۴)۔۔عصر کے معنے مطلقًا وقت کے ہیں۔قسم کے طور پر وقت کو اس لئے یاد فرمایا کہ اس کی عظمت اس کا مفید ہونا انسان سواجے۔انسان کی عمر کا وقت برف کے تاجر کی طرح ہے۔کہ ہر لمحہ ہر دقیقہ معرضِ خُسران میں پڑا ہوا ہے جس نے چت پت اس سے فائدہ اٹھا لیا۔وہ مزے میں رھا۔عپر کے معنے نچوڑنے کے ہیں۔اس سورث میں کے یہ معنے ہیں کہ اسلام سارے ادیان کے حقائق و معارف کا نچور ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ مَنِ اسْتَوٰی یَوْمَاہُ فَھُوَ مَغْبُوْنٌ یعنی جس کے دو دن برابر رہے۔اور اس نے کوئی ترقی نہ کی یا ان دو دنوں میں کوئی کسبِ خیر نہ کیا وہ گھاٹے میں ہے۔ابومزینہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ رضی اﷲ عنہم کی عادت تھی کہ جب دو صحابی بھی آپس میں ملاقات کرتے تو تذکیر کے طور پر سورہ شریفہ کاایک دوسرے کو سناتے۔نماز عصر کے بعد غروبِ آفتاب تک کوئی فرص نماز نہیں۔سنت الطواف کے سوائے بھی کوئی نفل نماز نہیں۔اس میں یہ اشارہ ہے کہ پیغمبر صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد کوئی اور شریعت نہیں۔اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَا صَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَا صَوْابِا لصَّبْرِ۔ایمان اور اعمالِ صالحہ کے لئے بعض زمانہ بڑا ہی قابلِ قدر ہوتا ہے۔قرآنِ شریف میں ایک اور مقام میں فرمایا ہے۔(الحدید:۱۱) حدیث شریف میں اسی آیت کی تفسیر یوں ہے۔کہ سابقین اوّلین میں سے جو اصحاب پہلے پہل ایمان لائے اور انفاق فی سبیل اﷲ ایک مٹھی بھَر جَو کے ساتھ کیا۔بعد میں ایمان لانے والے اور پہار برابر سونا خرچ کرنیوالے ان اگلوں کی برابری نہیں کر سکتے۔( الحدید:۱۱) اور یوں تو اﷲ تعالیٰ نے اگلے پچھلے سب کو نیک وعدے دئے ہیں۔وَ تَوَا صَوْا بِالْحَقِّ کی نسبت بھی ح