حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 457 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 457

از زنا رفتہ وباء اندر جہات جنابِ الہٰی نے جس طرح حکم دیا اس پر عمل کرو۔گھاٹ پر پاخانہ پھرنے سے۔درختوں کے نیچے اور راستوں پر پاخانہ پھرنے سے ہماری سریعت نے منع فرمایا ہے۔ایمان کے ساتھ اعمال بھی نیک ہوں۔جس میں بگار ہے اور وہ خدا تعالیٰ کا پسندیدہ کام نہیں۔پھر ان سچے علوم کو میری زبان سے کچھ سنا ہے اپنے گزشتہ امام سے سنا ہے۔اور اس کی پاک تصانیف میں دیکھا ہے۔وَتَوَا صَوْا بِالْحَقِّ۔پاک تعالیم یعنی حق کو دوسری جگہ پہنچاؤ۔بہت سے لوگ ہم سے ملنا چاہتے ہیں۔اور ہم سے محبت اور اخلاص چاہتے ہیں مگر ایمان کے حاصل کرنے اور ایمان کے مطابق سنوار کے کام کرنے اور پھر دوسروں تک پہنچانے میم متامّل ہیں۔بہت سے لوگ یہاں بھی آئے ہیں اور مجھ سے ملے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ ہم سے بالکل مِل جائیں تو ہم آپ کے ہو جاتے ہیں۔میں نے کہا۔ہماری تعلیم پر عمل کرو گے؟ تو کہتے ہیں۔تعلیم تو ہماری آپ کی ایک ہی ہے۔میں نے کہا جبکہ تم ہماری تعلیم پر عمل کرنے سے جی چُراتے ہو تو پھر ہم تم ایک کیسے ہو سکتے ہیں۔یہ سُن کرشرمندہ ہو کر رہ جاتے ہیں۔یہ سب کے سب منافق طبع لوگ ہوتے ہیں۔ایسے منافق بہت ہیں۔یہ سب ہم کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔تم حق کو پہنچاؤ اور حق کے پہنچانے میں علم و حکمت اور عاقبت اندیشی سے کام لو۔جو عاقبت اندیشی سے کام نہیںلیتے۔وہ بعض اوقات ایسے الفاظ کہہ دیتے ہیں۔جن سے برا نقصان ہوتا ہے۔کسی شخص نے مجھ کو خط لکھا کہ مَیں نے ایک شخص سے کہا کہ مکّہ معظّمہ اور مدینہ منورّہ میں میرے لئے دُعا کرنا۔ایک احمدی نے سُن کر کہا کہ مکّہ مدینہ کا کیا کوئی الگ خدا ہے۔اس پر اس شخص کو برا ابتلاء پیش آیا۔اگر نرمی سے کہا جاتا تو نتیجہ خطرناک نہ ہوتا۔اس طرح کہ مکّہ مدینہ بیشک قبولیتِ دُعا کے مقام ہیں۔پھر کہتا ہوں کہ خدا یہاں بھی ہے۔وہاں بھی ہے۔تم دونوں جکہ دُعا مانگو یعنی یہاں بھی دُعا ضرور مانگو۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میرے خسر سے کہا تھا کہ میرے لئے عرفات میں دُعا کرنا۔میرے خُسر کا بیٹا جو ان کے ہمراہ حج میں موجود تھا۔اب موجود ہے۔وہ کہتا ہے کہ ہمارے باپ نے عرفات میں دعا مانگی اور مَیں آمین آمین کہتا جاتا تھا۔مگر انسان سے اس قسم کی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ان غلطیوں کے دُور کرنے کے لئے مَیں نے کہا تھا کہ میں تین مہینے میں قرآن شریف پڑھا سکتا ہوں۔بشرطیکہ پانج سات آدمیوں کی ایک جماعت ہو۔قرآن کے لئے بھی دعا مانگنی چاہیئے اور متقی بننا چاہیئے۔(البقرہ:۲۸۳) جو تقوٰی اختیار کرتا ہے۔اس کو خدا سکھاتا ہے۔قرآن پڑھ۔سیکھو۔اس کے علم میں ترقی کرو۔اس پر عمل کرو قرآن سے تم کو محبت ہو۔وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۔حق کے پہنچانے میں کچھ تکلیف ضرور ہوتی ہے۔اس تکلیف