حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 452 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 452

ہے وہ جوانی میں نہیں۔جو جوانی میں ہے وہ پڑھاپے میں نہیں۔پس وقت کو غنیمت سمجھو۔ائمہ نے بحث کی ہے کہ جو نماز عمدًا ترک کی جاوے۔اس کی تلافی کی کیا صورت ہے۔؟ سو سچی بات یہی ہے کہ اس کی کوئی صورت سوائے استغفار کے نہیں۔اسی واسطے اﷲ تعالیٰ اس خُسر کی تلافی کے لئے فرماتا ہے کہ ایک تو ایمان ہو جس کا اصل الاصول ہے۔لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ۔اسی واسطے میری آرزو ہے کہ ہمارے واعظ اذان کے واعظ ہوں کہ وہ اسلام کا خاصہ ہے۔ایمان کیا ہے۔اﷲ کو ذات میں بے ہمتا۔صفات میں یکتا۔افعال میں لَیْسَ کَمِثْلِہٖ یقین کیا جائے۔چونکہ اس کے ارادوں کے پہلے مظہر ملائکہ ہیں اس لئے ان کی تحریک کو تسلیم کیا جاوے۔برہمو جو قوم ہے۔یہ بڑی بُری زبان کے لوگ ہیں۔اسلام کے سخت دشمن ہیں۔میں حیران ہوتا ہوں۔جب لوگ کہتے ہیں۔کہ یہ بڑے اچھے ہوتے ہیں۔یہ توتمام انبیاء کو مفتری قرار دیتے ہیں۔اس سے بڑھ کر اَور کوئی گالی کیا ہو سکتی ہے۔کہ خدا کے راستبازوں کو مفتری سمجھا جاوے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے (الانعام:۲۲)ایک برہمو سے مَیں نے انبیاء کے دعوٰی وحی حق کے بارے میں پوچھا۔تو اس نے کہا۔دروغ مصلحت آمیز جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اس قوم کو انبیاء کی نسبت کیسا گندہ خیال ہے۔یہ لوگ اﷲ کی صفات میں سے ایک صفت یُرْسِلم رَسُوْلًا اور اس کے متکّلم ہونے کے قائل نہیں اور ملائکہ کو ماننا شرک ٹھہراتے ہیں۔حالانکہ خدا نے انہیں عِبَادٌ مُّکَرّنمُوْنَ ( انبیاء: ۲۷) فرمایا ہے۔اور جن پر وہ ناقزل ہوتے ہیں۔ان کی نسبت فرمایا (النساء:۸۱) پھر جزا و سزا کا ایمان ہے۔وہ بہت سی نیکیوں کا سرچشمہ ہے۔ایک شخص نے مجھے کہا کہ آپ تو ابدالآبادغیر منقطع عذاب کے قائل نہیں۔اس کا مطلب یہ تھا۔کہ آخر ہم بھی تمہارے ساتھ آ ملیں گے۔بازار میں جا رہے تھے۔میں نے کہا کہ روپے لے لو اور دو جُوت کھا لو۔نہ مجھے کوئی جانتا ہے نہ تمہیں۔اس نے قبول نہ کیا۔کہ میری ہتک ہوتی ہے۔میں نے کہا۔جہاں اوّلین آخرین جمع ہوں گے۔وہاں یہ بے عزّتی کیسے گوارا کر سکو گے۔پھر ایمان بالقدر تمام انسانی بلند پروازیوں کی جڑ ہے۔کیونکہ جب یہ یقین وہکہ ہر کام کوئی نتیجہ رکھتا ہے۔تو انسان سوچ سمجھ کر عاقبت اندیشی سے کام لیتا ہے۔دیکھو اِمَاطۃ الّاذٰی عَنِ الطَّرِیْقِ بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے۔اور اس سے انگریز قوم نے خصوصیت سے فائدہ اٹھایا ہے پشاور سے کلکتہ تک رستہ صاف کیا تو کیا کچھ پایا۔مسلمان اگر مسئلہ قدر پر ایمان مستحکم رکھتے تو ہمیشہ خوشحال رہتے۔پھر جیسا ایمان ہو۔اسی کے مطابق اس کے اعمالِ صالحہ ہوں گے۔نماز۔زکوٰۃ۔روزہ۔